Inquilab Logo Happiest Places to Work

اچھا ہمسایہ دیگر ہمسایوں کیلئے باعث ِ رحمت ہوتا ہے

Updated: June 01, 2026, 2:25 PM IST | Momin Rizwana Mohammad Shahid | Mumbai

ہمسائے چونکہ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں اسلئے اکثر ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسروں کی نجی باتوں میں مداخلت کرے یا ان کی کمزوریاں دوسروں کے سامنے بیان کرے۔

Including neighbors in times of joy and sorrow increases love and creates belonging. Photo: INN
خوشی اور غم کے موقع پر ہمسائے کو شامل کرنے سے محبت بڑھتی ہے اور اپنائیت پیدا ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این

ہمسائے کو تکلیف نہ دینا

ہمسائیگی کا سب سے پہلا اور بنیادی حق یہ ہے کہ انسان اپنے پڑوسی کو اپنی زبان، اپنے رویے اور اپنے اعمال سے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی کے ساتھ براہِ راست جھگڑا نہیں کرتے تو وہ اچھے ہمسائے ہیں، حالانکہ بعض چھوٹی چھوٹی باتیں بھی دوسروں کیلئے اذیت کا سبب بن جاتی ہیں۔ مثلاً بلا ضرورت اونچی آواز میں بات کرنا، رات دیر تک شور و غل کرنا، بچوں کو بے قابو چھوڑ دینا، گلی یا سیڑھیوں میں کچرا ڈال دینا، یا گاڑی اس طرح کھڑی کرنا کہ دوسروں کو آنے جانے میں دشواری ہو۔ یہ سب ایسے اعمال ہیں جو بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں مگر پڑوسیوں کے دلوں میں  ناراضی اور بے سکونی پیدا کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، اچھا ہمسایہ دیگر ہمسایوں کیلئے باعث ِ رحمت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشرہ کو بہتر بنانے والے عوامل میں جذبۂ ایثار سرِ فہرست ہے

خوش اخلاقی اور نرمی کے ساتھ پیش آنا

ہمسائیگی صرف ایک دوسرے کے قریب رہنے کا نام نہیں بلکہ اچھے اخلاق کے ساتھ تعلق نبھانے کا نام بھی ہے۔ نرم مزاجی، خندہ پیشانی اور عزت کے ساتھ بات کرنا ایسے اعمال ہیں جو دلوں کو قریب کرتے ہیں۔ انسان اگر روزانہ اپنے پڑوسی کو مسکرا کر سلام کرے، خیریت دریافت کرے اور عزت و احترام سے پیش آئے تو یہ چھوٹے اعمال بھی محبت کو بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

ضرورت اور مصیبت کے وقت مدد کرنا

ہمسائیگی کا حقیقی حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان اپنے پڑوسی کے مشکل وقت میں اسکے کام آئے۔ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اسکی خیریت معلوم کرنا، دوا یا ڈاکٹر کے انتظام میں مدد دینا، بوڑھے افراد کا خیال رکھنا یا کسی پریشانی میں عملی تعاون کرنا بہترین انسانی اور اسلامی رویہ ہے۔ اچھے ہمسائے ایکدوسرے کیلئے سہارا بنتے ہیں، اسی لئے ایسے محلے ہمیشہ محبت اور اعتماد سے بھرے رہتے ہیں۔

خوشی اور غم میں شریک ہونا

ہمسائے اگر ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوں تو محبت بڑھتی ہے اور اپنائیت پیدا ہوتی ہے۔ شادی، ولادت، کامیابی یا کسی خوشی کے موقع پر مبارکباد دینا، دعا دینا یا مختصر شرکت کرنا بھی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے گھر بیماری، پریشانی یا وفات ہو جائے تو اس کے غم میں شریک ہونا، تعزیت کرنا اور ہمدردی کا اظہار کرنا بہت اہم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے

کھانے پینے اور نعمتوں میں شریک کرنا

اسلام نے پڑوسیوں کے ساتھ کھانے اور نعمتیں بانٹنے کو بھی پسند فرمایا ہے۔ اگر گھر میں کوئی خاص کھانا بنے، کوئی پھل یا تحفہ آئے یا خوشی کا موقع ہو تو پڑوسیوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے اور دلوں میں قربت پیدا ہوتی ہے۔

صبر، برداشت اور درگزر سے کام لینا

جہاں لوگ قریب قریب رہتے ہوں وہاں کبھی نہ کبھی اختلافات پیدا ہو ہی جاتے ہیں۔ بچوں کے شور، پانی، پارکنگ یا دیگر روزمرہ معاملات میں بعض اوقات ناراضی ہوجاتی ہے، لیکن سمجھداری یہی ہے کہ انسان ہر معاملے میں غصے اور جھگڑے کا راستہ اختیار نہ کرے۔ اگر انسان تھوڑا صبر، برداشت اور معاف کرنے کی عادت اپنائے تو بہت سے مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔ جو شخص دوسروں کی غلطیوں کو برداشت کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ اپنے لئے بھی سکون کا راستہ پیدا کر لیتا ہے۔

رازداری اور عزت کی حفاظت کرنا

ہمسائے چونکہ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں اس لئے اکثر ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسروں کی نجی باتوں میں مداخلت کرے یا ان کی کمزوریاں دوسروں کے سامنے بیان کرے۔ اچھا ہمسایہ وہ ہے جس پر لوگ اعتماد کرسکیں اور جو دوسروں کی عزت و آبرو کا محافظ بنے۔

بچوں کی صحیح تربیت کرنا

والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہمسایوں کے حقوق سکھائیں۔ بچوں کو شروع سے یہ تعلیم دی جائے کہ وہ شور شرابہ نہ کریں، گلی محلے میں بدتمیزی نہ کریں، کسی کے دروازے یا سامان کو نقصان نہ پہنچائیں اور بڑوں کا احترام کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ایثار ایک مہذب اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے

حسد، مقابلہ بازی اور بدگمانی سے بچنا

بعض اوقات ہمسایوں کے درمیان دنیاوی معاملات کی وجہ سے حسد پیدا ہوجاتا ہے۔ کوئی گھر بڑا ہو، کسی کے پاس زیادہ سہولتیں ہوں یا کوئی ترقی کر جائے تو بعض لوگ دل میں جلن محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ تعلقات کو خراب کرتا ہے۔ اچھے تعلقات ہمیشہ خیر خواہی، صاف دلی اور مثبت سوچ سے قائم رہتے ہیں۔

امن، صفائی اور اچھے ماحول کے قیام میں تعاون کرنا

ہمسایہ صرف اپنے گھر تک محدود نہیں ہوتا بلکہ پورے ماحول کی بہتری میں اس کا کردار ہوتا ہے۔ گلی، عمارت اور مشترکہ جگہوں کی صفائی کا خیال رکھنا، محلے کے امن کو خراب نہ کرنا اور ایک دوسرے کے آرام کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ایسے محلے جہاں لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوں، وہاں محبت، اعتماد اور سکون خود بخود پیدا ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گرمیوں میں بہتر صحت کے لئے پانچ بہترین عادتیں

اختتام

ہمسائیگی ایک عظیم معاشرتی ذمہ داری ہے۔ ایک اچھا ہمسایہ اپنے اخلاق، تعاون، صبر، خیر خواہی اور محبت سے دوسروں کیلئے آسانی اور سکون کا سبب بنتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں سے، اپنے رویوں سے اور اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا کرنے سے آغاز کرنا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط اور پُرامن معاشرہ ہمیشہ اچھے انسانوں اور اچھے ہمسایوں ہی سے تشکیل پاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK