Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ غلطیاں چہرے کی تازگی چھین لیتی ہیں

Updated: June 02, 2026, 2:08 PM IST | Mumbai

اگر آپ کی جلد بے جان اور روکھی نظر آتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کچھ ایسی غلطیاں کر رہی ہوں جن کا اثر آپ کی جلد پر پڑ رہا ہو۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اگر آپ کی جلد بے جان اور روکھی نظر آتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کچھ ایسی غلطیاں کر رہی ہوں جن کا اثر آپ کی جلد پر پڑ رہا ہو۔ بظاہر یہ غلطیاں بہت معمولی لگتی ہیں لیکن اگر طویل عرصے تک کی جاتی رہیں تو یہ جلد پر انتہائی برے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔ غور کیجئے کہ کہیں آپ بھی یہ غلطیاں تو نہیں کررہے۔

پانی کی کمی:

ہوسکتا ہے کہ آپ کم مقدار میں پانی پی رہے ہوں۔ اگر ایسا ہے تو جان لیں کہ آپ کی جلد پر وقت سے پہلے جھریاں پڑنے کی ایک وجہ آپ کے جسم میں پانی کی قلت (ڈی ہائیڈریشن) بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ روزانہ ۲؍ سے ۳؍ لیٹر (۸؍ سے ۱۲؍ گلاس) پانی پئیں۔ اس سے آپ کو صحت کے بہت سے مسائل سے چھٹکارا پانے میں مدد ملے گی اور آپ کی جلد بھی زیادہ ہشاش بشاش نظر آئے گی۔

یہ بھی پڑھئے: گرمیوں میں بہتر صحت کے لئے پانچ بہترین عادتیں

مٹھاس اور چکنائی سے بھرپور غذائیں:

آکسیڈیشن وہ عمل ہے جو ہمارے جسم میں آزاد ریڈیکلز پیدا کرتا ہے اور یہ آزاد ریڈیکلز جلد سمیت ہمارے کئی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ زیادہ مٹھاس والی اور چکنائی سے بھرپور غذائیں آزاد ریڈیکلز کی پیداوار بڑھاتی ہیں اس لئے ان سے پرہیز کریں۔ اچھی صحت اور جلد کے لئے سبز چائے پئیں، شکر کا استعمال کم رکھیں اور تازہ پھل و سبزیاں کھانے کی عادت ڈالیں۔

کیفین کا استعمال:

چائے اور کافی میں کیفین کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور ان کا زیادہ استعمال آپ کے جسم میں پانی کی قلت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آکسیڈیشن بڑھانے کا باعث بھی بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں زیادہ استعمال کرنے کے باوجود ان کی طلب کبھی ختم نہیں ہوتی۔ بہتر ہے کہ ان سے چھٹکارا پائیں اور اگر یہ ممکن نہ ہوسکے تو انہیں کم سے کم مقدار میں استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کو مطمئن، پُرسکون اور بااعتماد بنانے کی ضرورت

نیند کی کمی:

نیند ہمارے معمولات کا وہ حصہ ہے جس کے دوران ہماری اپنی مرمت خودکار طور پر کرتی ہے۔ اگر آپ کو پوری نیند نہ مل رہی ہو تو آپ کے چہرے پر عمر رسیدگی کے اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے۔ پوری نیند سے مراد یہ ہے کہ جب آپ سو کر اٹھیں تو خود کو تازہ دم محسوس کریں نہ کہ تھکا ماندہ۔ پوری نیند کا دورانیہ مختلف افراد کیلئے مختلف ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگ صرف ۴؍ گھنٹے سونے کے بعد بھی تازہ دم ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ جب تک ۸؍ گھنٹے نہ سوئیں، ان پر سستی طاری رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK