بچہ چوری کے پیش ِ نظر مائیں کیا احتیاط برتیں؟

Updated: September 26, 2022, 12:28 PM IST | Dr. Sherman Ansari | Mumbai

گزشتہ چند دنوں سے پورے ملک میں بچہ چوری سے متعلق افواہیں پھیل رہی ہیں جن سے والدین، خاص طور پر مائیں کافی پریشان ہیں۔ لیکن انہیں پریشان ہونے کے بجائے اپنے بچوں کی حفاظت کے تئیں چند اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایسے حالات میں بچوں کو کیا کرنا چاہئے، یہ انہیں ہلکے پھلکے انداز میں بتائیں

Don`t scare children by informing them about child theft, but tell them about safety measures.Picture:INN
بچہ چوری کی اطلاع بچوں کو دے کر اُنہیں خوف زدہ نہ کریں بلکہ انہیں حفاظتی تدابیر بتائیں ۔ تصویر:آئی این این

آج کل بچوں کو چوری یا اغواء کرنے کی افواہیں زوروں پر ہیں۔ اب تک اس ضمن میں ایک بھی معاملہ پیش نہیں آیا ہے۔ حالانکہ والدین، خاص طور پر مائیں اس افواہ سے کافی پریشان ہیں۔ مسنگ چلڈرن آرگنائزیشن کے مطابق ہر پانچ گھنٹے بعد ایک بچہ لاپتہ ہو جاتا ہے۔ یہ خوفناک حقیقت ماؤں کی پریشانی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ مگر پریشان ہونے کے بجائے مائیں اپنے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
 سب سے پہلے بچے کو گھر، اسکول، ٹیوشن، پارک یہاں تک کہ آن لائن خطرات سے آگاہ کرنا چاہئے۔
 اسکول سے بچوں کو لانے اور لے جانے کے لئے ان کو نوکروں یا کسی اجنبیوں کے ساتھ تنہا چھوڑنے سے گریز کریں۔
 اگر بچے ذاتی گاڑی یا اسکول بس میں سفر کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ وہ راستے کو یاد رکھیں۔
 والدین اپنی غیر موجودگی میں بچے کو لینے کیلئے گھر کے کسی فرد کے بارے میں اسکول انتظامیہ کو مطلع کریں۔ اسکول سے بچوں کو لینے کیلئے والدین یا سرپرست کے علاوہ کسی دوسرے یا پرائے شخص کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
 مائیں بچوں کو سکھائیں کہ وہ اجنبیوں سے بات چیت کرنے سے گریز کریں اور کسی نامعلوم شخص کے ساتھ ہرگز نہ جائیں یہاں تک کہ مشکوک رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی بچوں کو آگاہ کریں کیونکہ وہ آپ کے بچے کو آسانی سے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
 مائیں بچوں کو ہدایت دیں کہ کسی نامعلوم شخص سے کھانے پینے کی اشیاء قبول نہ کریں۔
 آپ کا بچہ کہاں ہے؟ اس کی جانکاری ماؤں کو ہونی چاہئے۔
بچوں کو مائیں ایسے ماحول میں غیر ضروری ادھر اُدھر گھومنے نہ دیں اور اپنے بچوں کے دوستوں کو جاننے کی کوشش کریں اور ان کے فون نمبر اپنے موبائل میں محفوظ رکھیں۔
 اگر بچے کسی نامناسب صورتحال سے خدانخواستہ دو چار ہو جائیں تو انہیں مزاحمت کرنے اور مدد کے لئے پکارنے کی تربیت دیں۔
 بچوں کو تربیت دیں کہ وہ ہنگامی صورتحال میں کس طرح اور کس سے مدد لے سکتے ہیں۔
 سب سے اہم، اپنے بچوں کیلئے وقت نکالیں۔ ان کی پریشانیوں کو سنیں۔ ان کے راز جاننے کی کوشش کریں۔ ان کے اچھے دوست بنیں۔
بچوں کو آگاہ کریں
 مائیں اپنے بچوں سے اغواء سے متعلق اور حفاظتی تدابیر پر بات کرنے کے لئے وقت نکالیں۔ انہیں ہر طرح کے حفاظتی اقدامات کی تعلیم دیں۔ ایسی کئی تنظیمیں ہیں جو بچوں کے ساتھ حفاظتی گفتگو کرنے میں بالغوں کی مدد کرتی ہے جن کی مدد سے والدین بچوں کو آگاہی دے سکتے ہیں۔
شناختی کارڈ
 والدین اپنے ہر چھوٹے بچے کا ایک لمینٹڈ شناختی کارڈ بنوائیں اور اس پر اس کا نام، تاریخ پیدائش، پتہ، فون نمبر وغیرہ درج کریں اور ہمیشہ چھوٹے بچے کے ساتھ رکھیں۔ اگر خدانخواستہ کہیں بچہ گم ہو جاتا ہے تو اس صورت میں یہ تدبیر کافی کارآمد ثابت ہوتی ہے اور والدین تک پہنچنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔
ہنگامی صورتحال
 کھیل کے میدان، تفریحی پارک یا اور کسی جگہ جہاں بچے کھیلنے جاتے ہیں، والدین بچوں کو وہاں کے قریبی مدد اور معلوماتی مراکز کی جانکاری دیں۔ مثلاً ہنگامی اسٹیشن، پولیس چوکی، جان پہچان والوں کا گھر وغیرہ تاکہ ہنگامی صورتحال میں وہاں بچوں کا پہنچنا آسان ہو۔
بچوں کو سکھائیں یہ باتیں
 بچوں کو بتائیں کہ اگر کسی سے خطرہ محسوس ہو تو فوراً وہاں سے بھاگ جائیں اور حفاظت کے لئے ’’ہیلپ، ہیلپ‘‘ چلّائیں۔
انہیں تاکید کریں کہ اہم رابطوں کی فہرست رکھیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں آگاہ کرنا ممکن ہوسکے۔
 بچوں کو تلقین کریں کہ اگر گھر پر کوئی بڑا نہیں ہے تو انجان شخص کے لئے دروازہ نہ کھولیں۔
 بچوں کو سمجھائیں کہ اگر کوئی تعاقب کر رہا ہے تو فوراً آس پاس موجود لوگوں کو مطلع کریں اور جلد از جلد وہاں سے بھاگ جائیں۔
 بچوں کو سمجھائیں کہ اگر راستے میں کوئی روکے یا مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرنے سے اجتناب برتیں۔ انہیں بتائیں کہ اس سے ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
 سب سے اہم، بچوں کو جھوٹ بولنے سے منع کریں۔ اکثر بچے ماں باپ سے جھوٹ کہہ کر اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں گھومنے چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ناگہانی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو والدین پریشان ہو جاتے ہیں اور بچوں کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ لہٰذا مائیں بچوں کو ہمیشہ سچ کہنے کی تلقین کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK