جو بیت گیا سو بیت گیا، آگے بڑھیں

Updated: November 11, 2020, 12:19 PM IST | Inquilab Desk

زندگی میں کئی مرتبہ ایسے واقعات یا حادثات ہوجاتے ہیں جو زندگی کا رُخ ہی بدل دیتے ہیں لیکن ایسے حالات سے ہار مان کر جینا چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ایسے حالات میں بھی آگے بڑھ کر زندگی کو سنوارنا اور نئے سرے سے زندگی کی شروعات کرنا ہی زندہ دلی ہے۔ کام ذرا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔

Women
وقت کی ایک خوبصورتی ہے کہ یہ کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا

زندگی رکتی نہیں، بدستور چلتی رہتی ہے۔ ہاں! زندگی میں کئی مرتبہ ایسے واقعات یا حادثات ہوجاتے ہیں جو زندگی کا رُخ ہی بدل دیتے ہیں، یا یوں کہیں کہ آپ کو بے حد مایوس یا غمزدہ کر دیتے ہیں، توڑ کر رکھ دیتے ہیں لیکن ایسے حالات سے ہار مان کر جینا چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ایسے حالات میں بھی آگے بڑھ کر زندگی کو سنوارنا اور نئے سرے سے زندگی کی شروعات کرنا ہی زندہ دلی ہے۔ کام ذرا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔
چلنا ہی زندگی ہے
 کتنی بھی بڑی مصیبت یا حادثہ کیوں نہ پیش آ جائے زندگی نہیں ٹھہرتی۔ ہاں! کچھ وقت کے لئے اس کی رفتا ضرور دھیمی پڑ جاتی ہے لیکن پھر اسے اپنے پرانے دھرے پر آنا ہی پڑتا ہے۔ چاہے وہ جاپان میں سونامی ہو یا اتراکھنڈ میں قدرتی آفت... اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی دوبارہ زندگی دھیرے دھیرے ہی سہی پٹری پر آنے لگتی ہے کیونکہ جو ہو گیا ہم اسے تو بدل نہیں سکتے جو اپنا چلا گیا اسے واپس لا تو نہیں سکتے لیکن اپنے آنے والے کل کو سنوار نے کی کوشش تو کر ہی سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے اور اپنے آس پاس کے باقی لوگوں کی خاطر جو ہوگیا اسے بھول کر زندگی میں آگے بڑھنا ہی پڑتا ہے۔
جب تک آس ہے
 بات چاہے قدرتی تباہی کی ہو یا زندگی میں کسی اور طرح کی ناکامی کی، آگے بڑھنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے اُمید۔ جیسے کسی پروجیکٹ پر چند ہفتوں تک دن رات محنت کرنے کے بعد وہ ڈیٹا کسی سبب آپ کے کمپیوٹر سے اڑ گیا۔ ایسے میں ممکن ہے کہ آپ کے پیروں تلے سے زمین کھسک جائے گی لیکن اس وقت اپنا ذہنی توازن کھو کر خود پر یا کسی اور پر غصہ کرنے یا پھر اداس ہوکر بیٹھ جانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مانا اس میں وقت لگے گا مگر آگے بڑھنے کے لئے تو آپ کو یہ کرنا ہی ہوگا۔ یقین مانئے، اگر آپ مثبت سوچ کے ساتھ نئی شروعات کرتے ہیں تو دیر ہی سے سہی آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔
جو بیت گیا سو بیت گیا
 جب یہ بات آپ کی سمجھ میں آجائے گی تو مشکل سے مشکل حالات سے بھی خود کو اُبھر کر زندگی میں آگے بڑھ سکیں گے۔ زندگی میں بہت سے ایسے لوگ، چیزیں، باتیں اور لمحے ہوتے ہیں جن کے چھن جانے پر آپ کو بہت دکھ ہوتا ہے یا آپ کی پوری زندگی ہی بدل جاتی ہے۔ کئی مرتبہ لگتا ہے جیسے جینے کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے مگر جب تک آپ زندہ ہے آپ کو ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا ہی ہوگا ورنہ آپ زندہ ہوکر بھی زندگی جی نہیں پائیں گے۔
وقت گزر ہی جاتا ہے
 وقت کی ایک خوبصورتی ہے کہ یہ کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ مشکل ہو تو آسانی بھی مل ہی جاتی ہے۔ حالات چاہے جتنے بھی کٹھن ہوں، مشکلات کے بادل جتنے بھی کالے کیوں نہ ہوں، آسانی کی صبح کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔ نہ دکھ سدا رہتا ہے اور نہ سکھ۔ ایسے ہی ناکامی اور کامیابی بھی ہمیشہ کیلئے نہیں ہے۔ اس لئے سب سے اہم بات یہ کہ انسان کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ مشکلات کے آنے پر، مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید اور یقین کا چراغ جلاتے رہنا چاہئے کیونکہ اگر انسان مایوسی کے اندھیرے میں امید کا چراغ جلاتا ہے تو اس کی روشنی انسان کے وجود کو منور کردیتی ہے۔ اس روشنی سے انسان باطنی اور ظاہری طریقے سے مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ ناکامی اور مشکل وقت سب عارضی ہے۔ وہ اس حقیقت سے آشنا ہوجاتا ہے کہ یہ زوال، یہ مشکلات سب انسان کی ہمت کو جانچنے کیلئے قدرت نے پیمانے بنائے ہوئے ہیں کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان اپنی فتح اور کامیابی سے اتنا مضبوط نہیں ہوتا، جتنا وہ اپنے زوال اور ناکامی سے مضبوط ہوتا ہے۔
خود کی پہچان
 حقیقت میں مشکل اور نامساعد حالات میں انسان کو اپنی خود کی پہچان ہوتی ہے اور اسی عمل میں اسے اپنے وجود کا ادراک ہوتا ہے۔ انسان اپنی چھپی ہوئی خوبیوں کو جانچنے کیلئے مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ اسے اپنے سے وابستہ رشتوں کی پہچان بھی ہوتی جاتی ہے۔ وہ آسانی سے جان لیتا ہے کہ کون اس کے ساتھ مخلص ہے اور کون نہیں۔ انسان کیلئے مشکل وقت گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے، اور اس وقت کو مزید مشکل انسان کے اپنے منفی خیالات بناتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ زند گی کی دوڑ سے باہر ہوگیا ہے۔ اس کے دیگر ساتھی بہت آگے نکل چکے ہیں اور وہ سب سے پیچھے اور سب کچھ ہار گیا ہے مگر اپنی پہچان کریں اور آگے بڑھیں۔
منفی خیالات سے دوری ضروری
 منفی خیالات صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیتے ہیں اور انسان کی سوچ کو مزید الجھا دیتے ہیں۔ اس لئے اگر مشکل حالات آجائیں تو سب سے پہلے اپنے خیالات کو مثبت رکھیں۔ یہ سوچ بھی مضبوط رکھنی چاہئے کہ ’’ہر طوفان آپ کی زندگی کو تباہ کرنے کےلئے نہیں آتا، کچھ طوفان آپ کے راستے صاف کرنے کےلیے بھی آتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK