Inquilab Logo Happiest Places to Work

تکیہ خریدتے وقت دھیان رہے کہ اس سے گردن کو آرام دہ سہارا ملے

Updated: August 12, 2026, 1:07 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

گردن اور کمر درد کی تکلیف سے بچنے کے لئے درست تکیے کا انتخاب بے حد ضروری ہے۔ دراصل نیند کے دوران استعمال ہونے والا تکیہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی صحت پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔

People generally buy soft pillows, even though they do not provide adequate neck support. Picture: INN
عام طور پر نرم تکیہ خریدی جاتی ہے جبکہ اس سے گردن کو مناسب سہارا نہیں ملتا۔ تصویر: آئی این این

گردن اور کمر درد کی تکلیف سے بچنے کے لئے درست تکیے کا انتخاب بے حد ضروری ہے۔ دراصل نیند کے دوران استعمال ہونے والا تکیہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی صحت پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ نرم تکیہ ہر وقت بہتر انتخاب ثابت نہیں ہوتا۔ خیال رہے کہ خریداری کے وقت کسی تکیے کا نرم اور آرام دہ محسوس ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ پوری رات سر اور گردن کو مطلوبہ سہارا بھی فراہم کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ صرف چند لمحوں کے تجربے کی بنیاد پر نرم تکیہ خرید لیتے ہیں، لیکن اس کی اصل کارکردگی کئی گھنٹے استعمال کے بعد سامنے آتی ہے۔ ان کے مطابق جب تکیہ سر کے وزن کے نیچے دب جاتا ہے تو اگر وہ مناسب سہارا برقرار نہ رکھ سکے تو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت گردن میں درد یا اکڑن محسوس ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی سر کا اوسط وزن تقریباً ساڑھے چار کلو گرام ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تکیہ رات بھر آہستہ آہستہ دبتا رہتا ہے۔ اگر تکیہ بہت زیادہ نرم ہو تو وہ سر اور گردن کو مطلوبہ سہارا فراہم نہیں کر پاتا۔ اسی لئے تکیہ خریدتے وقت صرف اس کی نرمی کو معیار نہ بنایا جائے بلکہ اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ وہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو سیدھی حالت میں رکھنے میں کس حد تک مددگار ہے۔

تحقیق کے مطابق لیٹیکس اور میموری فوم سے بنے تکیے گردن کے درد میں نسبتاً زیادہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ رات بھر اپنی ساخت کو بہتر انداز میں برقرار رکھتے ہیں اور سر کو مناسب سہارا دیتے ہیں۔ دوسری جانب پروں یا مصنوعی ریشوں سے تیار کئے گئے تکیے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی نسبتاً سخت اقسام کا انتخاب زیادہ مناسب رہتا ہے کیونکہ بہت زیادہ نرم تکیے وقت کے ساتھ جلد ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ نئے تکیے کے بارے میں پہلی ہی رات حتمی رائے قائم کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق پروں اور مصنوعی ریشوں والے تکیے ایک یا دو راتوں میں اپنی اصل حالت اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ میموری فوم کے تکیے جسم کی حرارت اور سر کی ساخت کے مطابق ڈھلنے میں چند ہفتے بھی لے سکتے ہیں۔

تکیہ خریدتے وقت اگر ممکن ہو تو اس پر چند منٹ لیٹ کر دیکھنا چاہئے اور ایسا تکیہ منتخب کرنا بہتر ہوسکتا ہے جو ابتدا میں قدرے مضبوط یا نسبتاً اونچا محسوس ہو کیونکہ مسلسل استعمال کے ساتھ وہ خود بخود کچھ نرم ہو جاتا ہے۔ خیال رہے کہ گردن کی صحت کیلئے صرف آرام کا احساس کافی نہیں بلکہ مناسب سہارا فراہم کرنا زیادہ اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK