سیکوریٹی گارڈکےطورپرکام کرنے والانوجوان اب وہاں ٹیکنالوجی آفیسرکےطورپرکام کرتا ہے

Updated: March 30, 2021, 6:42 AM IST | Inquilab News Network

تامل ناڈوکے عبدالعلیم نامی نوجوان ’’جہاں  چاہ وہاں راہ‘‘ کی عملی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ۸؍سال قبل ایک سافٹ ویئر فرم میں سیکوریٹی گارڈ کے طور پر کام کی شروعات کی تھی اور اب وہ اسی کمپنی میںسافٹ ویئر ڈیولپمنٹ  انجینئر کے طور پرملازمت کررہے ہیں۔

Abdulaleem
عبدالعلیم

تامل ناڈوکے عبدالعلیم نامی نوجوان ’’جہاں  چاہ وہاں راہ‘‘ کی عملی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔  انہوں نے ۸؍سال قبل ایک سافٹ ویئر فرم میں سیکوریٹی گارڈ کے طور پر کام کی شروعات کی تھی اور اب وہ اسی کمپنی میںسافٹ ویئر ڈیولپمنٹ  انجینئر کے طور پرملازمت کررہے ہیں۔  انہوں نے گزشتہ دنوں اپنے اس جدوجہد و ترغیب سے بھرپور سفر کے بارے میں ’لِنکڈاِن ‘ پر ایک پوسٹ لکھی جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارم پر وائرل ہوگئی۔ 
 عبدالعلیم کی لِنکڈ اِن پوسٹ کے مطابق انہوں نے ۲۰۱۳ء میں جب اپنا گھر چھوڑا تو اس وقت ان کے پاس ایک ہزار روپے تھے۔  انہوں  نے دسویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کی تھی ۔ وہ چنئی آئے اور انہیں یہاں زوہو کارپوریشن نامی سافٹ  ویئر فرم میں سیکوریٹی گارڈ کی ملازمت مل گئی۔ وہ اپنا کام بڑی ایمانداری او رتندہی کے ساتھ انجام دیتے تھے۔
 کمپنی کے ایک سینئر اہلکار نے ایک دن عبدالعلیم سے بات چیت کی اور اس دوران انہیں اندازہ ہوا کہ اس سیکوریٹی گارڈ کے  اندر ایک   ایک قابل نوجوان  ہے جو کمپیوٹر کی معلومات بھی خاصی رکھتا ہے۔ انہیں  معلوم  ہوا کہ عبدالعلیم  دسویں کامیاب ہے  اور کمپیوٹر کی کافی معلومات رکھتا   ہے  اور اسکول کے  دنوں  میں  اس  نے ایچ ٹی ایم ایل بھی سیکھا  ہوا ہے۔
 اس سینئر اہلکار  سے بات چیت میں   عبدالعلیم   اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ  کمپیوٹر سیکھنا چاہتا ہے ۔  سینئر اہلکار بھی اس نوجوان کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے تھے۔ اس طرح انہوں نے عبدالعلیم کو ڈیوٹی کے بعد کوڈنگ سکھانی شروع کی۔ ۸؍ مہینوں تک کوڈنگ سیکھنے کے بعد عبدالعلیم نے ایک ایپ بنائی جو کمپنی کے ذمہ داروں کو بھی پسند آئی۔ جس سینئر اہلکار نے عبدالعلیم کو کوڈنگ سکھائی انہوں نے کمپنی کے ذمہ داران سےسفارش کی کہ اس نوجوان کو ملازمت دی جائے۔ لہٰذا اس کمپنی کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ کےذمہ دار نے عبدالعلیم کا انٹرویو لیا   اور عبدالعلیم نے اپنی صلاحیت  سے انہیں  کافی متاثر کیا اور یوں کمپنی کی جانب سے عبدالعلیم کو   ڈیولپر کے طور پر کام پر رکھ لیا گیا۔  اس بات کو ۸؍ سال گزرگئے ہیں اور اب عبدالعلیم یہاں  سافٹ  ویئر ڈیولپمنٹ انجینئر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہیں ہیں۔  عبدالعلیم نے سیکوریٹی گارڈ سے ڈیولپر اور پھر سافٹ ویئر انجینئر بن کر ثابت کردیا کہ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ہے اور اگر آدمی کچھ ٹھان لے تو پھر وہ کام کرہی لیتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK