Inquilab Logo Happiest Places to Work

پھر پرچہ لیک، پھر امتحان رد، پہلے نیٹ اَب ٹیٹ

Updated: June 28, 2026, 9:54 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari and Saadat Khan | Mumbai

آج تھا امتحان، ۳؍ ملزم گرفتار، نئی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا،مزید تفتیش کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل مگر طلبہ کی ذہنی اذیت ناقابل بیان ، دور دراز کے طلبہ گھر سے نکل چکے تھے

The three accused who leaked the Tate paper can be seen in police custody.
ٹیٹ کا پیپر لیک کرنے والے تینوں ملزمین پولیس حراست میں دیکھے جاسکتے ہیں۔(تصویر: انقلاب )

نیٹ یوجی اور اس طرح کے دیگر چند امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے بعد مہاراشٹر میں اساتذہ کا اہلیتی امتحان( مہاٹی ای ٹی۔ ٹیٹ) کا پرچہ سنیچر کو لیک ہو گیا۔ جس کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل( ایم ایس ای سی )نے اتوار ۲۸؍جون یعنی آج ہونے والے ٹیٹ  امتحان کو منسوخ کر دیا ۔پرچہ لیک کرنے والوں کی گرفتار ی عمل میں آگئی ہے۔ بھیونڈی پولیس نے بہار اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے ۳؍ افراد کو اس معاملے میںگرفتار کیا ہے۔ ملزمین نے لیک شدہ پرچہ کو تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا منصوبہ تھا  اوراس کیلئے پیشگی رقم بھی وصول کرلی تھی۔ اب معاملہ کی جانچ کیلئے ۲۰؍افسران پرمشتمل ایس آئی ٹی تشکیل  دے دی گئی ہے لیکن حکومت،   پولیس اور انتظامیہ  اس پرچہ کی منسوخی سے طلبہ کو ہونے والی ذہنی اذیت کے بارے میں کوئی بھی بات نہیں کر رہے ہیں۔ بس اعلان کردیا گیا ہے کہ پرچہ ملتوی ہوگیا ہے اور اگلی تاریخ کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔  
معاملہ کیا ہے ؟
گرفتار ملزمان کی شناخت بہار کے راجیو شاہ، آکاش کمار اور ہریانہ کے دھیرج کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ معاملہ کسی ایک فرد یا گروپ کی کارروائی نہیں ہے بلکہ ایک منظم بین الریاستی گینگ اس کے پیچھے ہے۔ اس پورے ریکیٹ کا ماسٹر مائنڈ فی الحال فرار ہے، جس کی تلاش میں متعدد ریاستوں میں چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔تھانہ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک دودھے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ٹی ای ٹی۲۰۲۶ء  پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات کیلئے ڈپٹی پولیس کمشنر پون بنسوڈ کی قیادت میں ۲۰؍ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے جو اس بین الریاستی ریکیٹ کے خلاف جانچ کرے گی۔
بھیونڈی کے قریب کونگائوں میں پولیس کی کارروائی 
اشوک دودھے کے مطابق بھیونڈی زون ۲؍ کے ڈی سی پی پون بنسوڈ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کچھ افراد ٹی ای ٹی کا سوالیہ پرچہ فروخت کرنے کیلئے آنے والے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی بھیونڈی کے قریب واقع کونگاؤں کی حدود میں جال بچھایا گیا۔ کارروائی کے دوران تینوں ملزمین کو حراست میں لیکر تلاشی لی گئی۔  ان کے پاس سے ٹی ای ٹی کے سوالیہ پرچوں کے چار سیٹ، موبائل فون، ڈیبٹ کارڈ  اور کریڈٹ کارڈ برآمد کئے گئے۔بعد ازاں مہاراشٹر ریاستی امتحانی کونسل کے افسران کو موقع پر طلب کرکے سوالیہ پرچوں کی جانچ کرائی گئی۔ ان افسران نے  برآمد شدہ سوالات کے اصل پرچوں سے مطابقت رکھنے کی تصدیق کی ۔ 
ڈیڑھ کروڑ روپے کی ڈیل 
پولیس نے بتایا کہ ٹیٹ کا پرچہ فروخت کرنے کیلئے  ڈیڑھ کروڑ  روپے کی ڈیل طے ہوئی تھی  اور اسی لئے  ملزمین دہلی سے لیک شدہ سوالیہ پرچہ لے کر بھیونڈی پہنچے تھے۔ ڈی سی پہ پون بنسوڈ کے مطابق  ملزمین کو پیشگی رقم بھی مل چکی تھی۔ پولیس اب ان کے  بینک کھاتوں، مالی لین دین اور’’منی ٹریل‘‘ کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔
ٹی ای ٹی امیدواروں میں شدید ناراضگی 
واضح رہے کہ ٹی ای ٹی امتحان کیلئے ۶؍لاکھ سے زیادہ اُمیدواروں(۴؍ لاکھ ۲۸؍ ہزار پیپر وَن اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ پیپر ٹو  کیلئے)نے بشمول برسرروزگار اساتذہ  رجسٹریشن کروایاتھا۔ ٹی ای ٹی امتحان منسوخ ہونے سے ان اُمیدواروں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اتوار کو ہونے والے امتحان میں شریک ہونے کیلئے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع  سے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کر کے اُمیدوار سنیچر کوہی امتحانی مراکز پہنچ گئے تھے جبکہ سیکڑوں امیدوار اپنے اپنے گھروں سے نکل چکے تھے۔ سیکڑوں اُمیدواروں نے امتحان دینے کے لئےاسکولوں اور دفاتر سے چھٹیاں تک لے لی تھیں۔ ان اُمیدواروں نے سفر کے اخراجات برداشت کئے ، ذہنی و جسمانی مشقت اٹھائی مگر حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کی سنگین غفلت کی وجہ سے ان کی محنت رائیگاںگئی کیوں کہ امتحان ہی منسوخ ہوگیا۔ ریاستی حکومت کی لاپروائی سے اُمیدواروں کو نہ صرف ذہنی اذیت پہنچی بلکہ ان کا  قیمتی وقت اور پیسہ بھی برباد ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کی اپیل

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کے ذمہ دار تمام افسران کو معطل کیا جائے۔ اُمیدواروں کے مطابق ریاستی امتحانی کونسل کے کمشنر اور متعلقہ افسران کو ایسی سنگین غلطی کیلئے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔  ٹی ای ٹی اُمیدواروں نے معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیاہے۔ایم ایس ای سی کے ڈائریکٹر نند کمار بیڈسے کے مطابق’’نیٹ کا پیپر لیک ہونے کی وجہ سے ہم نےٹی ای ٹی امتحان کی تیاری کے دوران کئی اضافی حفاظتی اقدامات کئے تھے لیکن مشتبہ پیپر لیک ہونے کی وجہ سے ہم نے منصفانہ اور شفاف امتحان کو یقینی بنانے کیلئے امتحان ملتوی کیاہے ۔ امتحان کو دوبارہ شیڈول کیا  جارہا ہے کیونکہ ایک تفصیلی تحقیقات ضروری ہے تاکہ امتحان کو مکمل شفافیت کے ساتھ منعقدکیا جاسکے ۔   معاملے کی تحقیقات کے لئے جوایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں ڈی سی پی پون بنسوڈ کی قیادت میں  دو اسسٹنٹ پولیس کمشنر، نو پولیس انسپکٹرز، اے پی آئی، پی ایس آئی سمیت مجموعی طور پر ۲۰؍ افسران شامل ہیں۔  دریںاثناءنیٹ سمیت متعدد مسابقتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد ٹی ای ٹی پرچہ لیک کا یہ معاملہ ایک بار پھر ملک کے امتحانی نظام کی ساکھ اور سلامتی پر سنگین سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ سوالیہ پرچہ کس سطح سے لیک ہوا، اس میں کن افراد کا کردار رہا اور اس کا نیٹ ورک کن کن ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ حکام کے مطابق، تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK