میرابھائندر میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں منظورکردہ قرارداد کے مطابق عیدقرباں سے پہلے سوسائٹی میں بکرا لانے پر ۲۵۰۰۰ روپے جرمانہ عائد کیا جائیگا۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 11:26 AM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mumbai
میرابھائندر میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں منظورکردہ قرارداد کے مطابق عیدقرباں سے پہلے سوسائٹی میں بکرا لانے پر ۲۵۰۰۰ روپے جرمانہ عائد کیا جائیگا۔
بی جے پی میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن میں اقتدار سنبھالتے ہی روز اول سے فرقہ پرستانہ ایجنڈے پر گامزن ہے۔ شہید ٹیپو سلطان چوک کے نام کی تبدیلی اور اتن میں مذبح کیلئے مختص زمین کے ریزرویشن کو منسوخ کرنے جیسے اقدامات کئے گئے۔ اب بی جے پی عیدالاضحی کے موقع پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں چند روز قبل بکرا لانے پر جرمانہ عائد کر رہی ہے۔ منگل کو میرابھائندر میونسپل کارپوریشن کے عام اجلاس ( جنرل باڈی میٹنگ) میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس کے مطابق عیدالاضحی سے پہلے سوسائٹی میں بکرا لانے پر ۲۵۰۰۰؍روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بیسٹ ملازمین کے ۵؍ مطالبات منوانے کیلئے یونین لیڈر ہڑتال پر
کانگریس کی میونسپل کارپوریٹر ایڈوکیٹ ثناء دیشمکھ نے نمائندہ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ عام اجلاس میں بی جے پی نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر یہ قرارداد منظور کروائی ہے۔ بکرے اب صرف مختص شدہ منڈی میں رکھے جا سکتے ہیں اور منظور شدہ مذبح میں ہی انہیں ذبح کئے جانے کی اجاز ت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کےمیونسپل کارپوریٹروں نے اس مخالفت کی تھی۔ ہم نے اجلاس میں یہ بات کہی کہ ذبح نہیں تو کم از کم بکرا رکھنے کی اجازت دی جائے، ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ معاملہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر سوسائٹیوں کے اراکین اس پر رضامند ہوں تو بکرا رکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے مگر ہمارے مشوروں اور تجاویز کو نظر انداز کردیاگیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کارپوریٹر انیل ساونت نے کہا کہ شہر میں چکن اور مٹن کی دکانوں کی صفائی ستھرائی اور قاعدے قوانین کی حد تک بات درست ہے اور ہم بھی شہر میں صاف صفائی اور نظم و ضبط کے حامی ہیں لیکن ہمارا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے پاس شہر میں سلاٹر ہاؤس کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ انتظامیہ کا فرض تھا کہ وہ پہلے قربانی کے لیے شہر میں کوئی مناسب اور باقاعدہ جگہ نامزد کرتی جو کہ نہیں کی گئی۔ انیل ساونت نے سوال قائم کیا کہ اگر کسی سوسائٹی کے تمام رہائشیوں کو جانور لانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تو انتظامیہ یا بی جے پی کو روکنے کا کیا حق حاصل ہے؟ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد پوار گروپ کے میرابھائندر کے کارگزار صدر غلام نبی فاروقی نے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شہری انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ کس قانون کے تحت کسی مخصوص مذہبی برادری کو ان کے مذہبی تہوار کی تیاریوں سے روکا جا رہا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ایسا کوئی قانونی بندوبست موجود ہے تو کارپوریشن اسے عوامی طور پر واضح کرے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر :ریاست میں ۲؍ کروڑ ۷؍ لاکھ ووٹروں نے انومریشن فارم لیا ہی نہیں!
میرابھائندر میں مذبح کے مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے غلام نبی فاروقی نے نشاندہی کی کہ میرا بھائندر کے ڈیولپمنٹ پلان میں ۱۹۹۸ء سے سلاٹر ہاؤس کے لیے جگہ مختص ہونے کے باوجود آج تک متعلقہ سہولت تیار نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ میونسپل کارپوریشن پہلے شہر میں باقاعدہ قانونی مویشی پناہ گاہ اور مجاز قربانی کا انتظام فراہم کرے تاکہ شہریوں کو سوسائٹیوں میں جانور رکھنے کی مجبوری ہی نہ ہو۔