بیسٹ ورکرس یونین کے سربراہ ششانک راؤ کی بھوک ہڑتال کودیگر یونینوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 11:22 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
بیسٹ ورکرس یونین کے سربراہ ششانک راؤ کی بھوک ہڑتال کودیگر یونینوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بیسٹ ورکرس یونین کے سربراہ ششانک راؤ نےمنگل کےدن ۱۸؍اگست سے اپنے دفتر میں بے مدت بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ دیگریونینوں نے سیاست کرنے کا الزا م عائد کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا جبکہ بیسٹ انتظامیہ کاکہنا ہےکہ بھوک ہڑتال کاکوئی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ ۱۷؍ اگست کے بہ نسبت ۱۸؍ اگست کو۱۳؍ زائد بسیں سڑکوں پردوڑائی گئیں۔ ششانک راؤ نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ’’ بیسٹ ملاز مین کا مسلسل استحصال کیاجارہا ہے اوران کے جائز مطالبات نظر انداز کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے نائب وزیراعلیٰ اور شہری ترقیات کے وزیرایکناتھ شندے کوخط لکھ کرا س تعلق سے ۱۵؍ اگست تک آخری مہلت دی تھی، اس پربھی توجہ نہ دیئےجانے کےسبب انہوں نے خود ہی بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: رے روڈ پربریج سے اسٹیشن تک جانےکاراستہ ندارد
۵؍مطالبات کیا ہیں
(۱)ضابطے کے تحت بیسٹ بجٹ کوبی ایم سی میں ضم کیا جائےاوربیسٹ کوبی ایم سی کا حصہ بنایا جائے (۲) کمیشن کی سفارشات کے مطابق تنخواہ دی جائے اوردو ٹرم یعنی ۲۰۱۶ءتا ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء تک اس پرعمل نہیں کیا گیا۔ یعنی اب تک دو مرتبہ تنخواہ بڑھ چکی ہوتی، اسے نافذ کیاجائے (۳) ۲۰۱۰ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان بیسٹ میں بجلی سپلائی شعبے کے عارضی ملازمین کو مستقل ملازمین کی طرح تمام سہولتیں ، تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جائیں۔ (۴) ویٹ لیز ملازمین کو بھی یکساں کام یکساں سہولت اوریکساں تنخواہ کے درجے میں شامل کیا جائے (۵) ۱۱؍ جون ۲۰۱۹ء کو یونین اوربیسٹ کے درمیان ہونے والے معاہدےکومکمل طور پرنافذ کیا جائے اوربیسٹ کوبلاتاخیر مالی مدد دی جائے۔