Inquilab Logo Happiest Places to Work

رے روڈ پربریج سے اسٹیشن تک جانےکاراستہ ندارد

Updated: August 19, 2026, 11:12 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

فلائی اووَر سےرے روڈ اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک اور ۲؍ پرجانےکاراستہ نہیں ہے، مسافر اسٹیشن سے مشرق و مغرب کی طرف جانے کا طویل راستہ اختیار کرنےپرمجبور، صرف ڈیڑھ سال میںکیبل فلائی اووَر میں۵۷؍ مقامات پر دراڑیں، عوام میں بریج کے گرنے کا خوف پایا جا رہا ہے۔

The Reay Road flyover was inaugurated on May 13, 2025. Picture: Inquilab
رے روڈ فلائی اووَر کا افتتاح ۱۳؍ مئی ۲۰۲۵ء کو کیا گیا تھا۔ تصویر: انقلاب

ٹریفک کم کرنے کیلئے رے روڈ پر شہر کا پہلا ریلوے کیبل بریج شروع ہوئے ڈیڑھ سال ہوگیا ہے لیکن اس فلائی اوور کو رے روڈ اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک اور ۲؍ سے جوڑنے والا مجوزہ پیڈسٹرین پل ابھی تک تعمیر نہیں ہوسکا ہےجس سے مسافروں کو اسٹیشن سے مشرق و مغرب کی طرف کا سفر طے کرنے میں بڑی پریشانی ہو رہی ہے۔ پیڈسٹرین پل کی سہولت نہ ہونے سے مسافر متبادل طویل راستوں سے اپنی منزل پرپہنچ رہے ہیں اورانہیں شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس کے علاوہ کیبل فلائی اوور میں دراڑیں پڑنے اور متعدد مقامات پر بریج کےٹوٹ جانے اور جمپ کرنے سے بھی مقامی عوام میں بریج کے گرنے کا خوف پایا جا رہا ہے۔  رے روڈ فلائی اووَر کا افتتاح ۱۳؍ مئی ۲۰۲۵ء کو کیا گیا تھالیکن تقریباً ڈیڑھ سال کا وقفہ گزر جانے کے باوجود پیدل چلنے والوں کو درپیش پریشانی بدستور برقرار ہے کیونکہ اسٹیشن کا پیدل چلنے والا راستہ ابھی تک شروع نہیں ہوسکا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:bribes.fyi: رشوت کے خلاف نیا آن لائن پلیٹ فارم، ۲۵۳؍شہروں سے۶۱۷؍ شکایات

خیال رہے کہ نیا فلائی اوور رے روڈ اسٹیشن کے عالمی ثقافتی ورثے کے داخلی دروازے سے تقریباً ۷؍فٹ اُونچاہے، اس لئے فلائی اوور اور اسٹیشن کے داخلی راستے کو براہ راست نہیں ملایا جاسکا ہے جس کی وجہ سے مجوزہ پیڈسٹرین پل کا کام ابھی معلق ہے۔ نتیجے کے طور پر مشرق سے مغرب یا مغرب سے مشرق جانے والے، پیدل چلنے والوں کو اپنی جگہ پر پہنچنے کیلئے طویل چکر لگانا پڑ رہا ہے۔ 

رے روڈ کے سماجی کارکن یاسین چشتی نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ نئے فلائی اوور سےبراہ راست رے روڈ ریلوے پلیٹ فارم پر جانے کی سہولت نہ ہونے سے بائیکلہ اور داروخانہ کی جانب جانے والے مسافروں کو بڑی پریشانی ہو رہی ہے۔ انہیں ۲؍منٹ کا سفر ۲۰؍منٹ میں طے کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلےرے روڈ بریج سے پلیٹ فارم پر جانے کی سہولت اور ٹکٹ کائونٹر ہونے سے بڑی آسانی تھی۔ مسافرمنٹوں میں داروخانے یا بائیکلہ کی طرف روانہ ہو جاتے تھے لیکن اب انہیں ان مقامات پر جانے کیلئے لمبا راستہ طے کرنا ہوتا ہے۔ ‘‘

ہیومنٹی فارورڈ فائونڈیشن کے صدر محمد حسین کے مطابق ’’ پیڈسٹرین کی سہولت نہ ہونے سے جہاں مسافروں کو دقت ہو رہی ہے وہیں نئے فلائی اوور میں صرف ڈیڑھ سال میں ۵۷؍مقامات پر دراڑیں اور بریج کا جزوی حصہ ٹوٹ پھوٹ جانے سے اس کی مضبوطی پر سوالیہ نشان کھڑے کئے جارہے ہیں ۔ علاوہ ازیں کئی مقامات پر بریج جمپ بھی کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہےکہ کہیں یہ بریج گر نہ جائے۔ اسی وجہ سے ہم نے بی ایم سی کے علاوہ دیگر محکموں میں تحریری شکایت درج کرائی ہے تاکہ انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جاسکے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے:جنتر منتر احتجاج : جانچ کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل

مذکورہ ادارہ سے وابستہ ایک رکن نے کہا کہ ’’ بریج پر فٹ پاتھ بھی نہیں بنائی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے بریج پر پیدل چلنے میں خوف ہوتا ہے۔ بریج سے خواتین، اسکولی بچے اور عمررسیدہ افراد بھی گزرتے ہیں ، فٹ پاتھ نہ ہونے سے سڑک حادثات ہونے کا خطرہ لاحق ہے، لہٰذا یہ بریج سہولت کے بجائے عوام کیلئے مصیبت بن گیا ہے۔ ‘‘

ایک عمررسیدہ شہری نے کہا کہ ’’ یہ بریج ۱۴۲؍کروڑ روپےکی لاگت سے تعمیر ہوا ہےلیکن مطلوبہ سہولیات کے فقدان سے شہریوں کو آسانی کے بجائے پریشانی ہو رہی ہے۔ جس کی نشاندہی کیلئے ہماری مذکورہ تنظیم نے متعلقہ محکموں سے متعدد تحریری شکایتیں کی ہیں لیکن ابھی تک کسی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی ہے جس سے مایوسی ہوئی ہے۔ انتظامیہ سے اپیل ہےکہ وہ بریج کی مرمت اور پیڈسٹرین کی سہولت کیلئے ضروری اقدامات پر عمل کرے۔ ‘‘

مسئلہ کیا ہے ؟
رے روڈ فلائی اووَر کا افتتاح ۱۳؍ مئی ۲۰۲۵ء کو کیا گیا تھالیکن تقریباً ڈیڑھ سال کا وقفہ گزر جانے کے باوجود پیدل چلنے والوں کو درپیش پریشانی بدستور برقرار ہے کیونکہ اسٹیشن کا پیدل چلنے والا راستہ ابھی تک شروع نہیں ہوسکا ہے ۔
 نیا فلائی اوور رے روڈ اسٹیشن کے عالمی ثقافتی ورثے کے داخلی دروازے سے تقریباً ۷؍فٹ اُونچاہے ، اس لئے فلائی اوور اور اسٹیشن کے داخلی راستے کو  ملایا نہیں جاسکا ہے جس کی وجہ سے مجوزہ پیڈسٹرین پل کا کام ابھی معلق ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK