جامعہ حنفیہ رضویہ (قلابہ) میں قاری نیازاحمدقادری (نائب ناظم) نے بالخصوص پہلی مرتبہ تراویح پڑھانے والے حفاظ کونصیحت کرتے ہوئے۱۰؍اہم نکات سمجھائے۔
EPAPER
Updated: March 02, 2025, 10:01 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
جامعہ حنفیہ رضویہ (قلابہ) میں قاری نیازاحمدقادری (نائب ناظم) نے بالخصوص پہلی مرتبہ تراویح پڑھانے والے حفاظ کونصیحت کرتے ہوئے۱۰؍اہم نکات سمجھائے۔
تراویح کی نمازمستقل عبادت ہے۔ اس لئے تراویح پڑھانے والے حفاظ تلاوت قرآن کریم اورعبادت کے ضوابط کوملحوظ رکھتے ہوئے خشوع وخضوع سے پڑھائیں اور اس کا استحضار رہے کہ وہ کلام الہٰی پڑھ رہے ہیں۔ جامعہ حنفیہ رضویہ (قلابہ) میں قاری نیازاحمدقادری (نائب ناظم) نے بالخصوص پہلی مرتبہ تراویح پڑھانے والے حفاظ کونصیحت کرتے ہوئے۱۰؍اہم نکات سمجھائے۔
(۱)تراویح سے پہلے مکمل دَور کریں تاکہ پڑھنے میں رکنے یامشابہت کے امکانات کم سے کم ہوں (۲)قرآن کریم پڑھنے کی رفتار متوازن ہو، نہ بہت تیز اور نہ بہت آہستہ، تاکہ مقتدیوں کو سمجھنے میں آسانی ہو (۳)تجوید کا خیال رکھیں (۴) سانس لینے اور ٹھہرنےکی جگہوں کو صحیح طریقے سے سمجھیں تاکہ آیات کے معانی واضح ہوں (۵) زیادہ بھاری کھانے سے پرہیز کریں تاکہ دورانِ نماز طبیعت ہلکی اور یکسو رہے(۶) نماز کے دوران مکمل طہارت اور صاف لباس کا اہتمام کریں (۷)دورانِ نماززیادہ حرکات اور جلد بازی سے بچیں، وقار اور عاجزی کے ساتھ نماز پڑھائیں (۸) مقتدیوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور نرمی سے پیش آئیں، اگر کوئی تصحیح کرے تو خوش دلی سے قبول کریں (۹) اگر نماز کے بعد نصیحت کرنی ہو تو عام فہم اور محبت بھرے لہجے میں مختصر کریں، سخت الفاظ سے گریز کریں (۱۰) مسجد کے منتظمین، بزرگ اور علماء کی عزت کریں ، ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں اوران کی تنقید کو برداشت کریں۔ اس کے علاوہ اگر کسی رات طبیعت خراب ہو جائے تو کسی اور حافظ سے تراویح پڑھوانے کا انتظام پہلے سے کریں تاکہ تراویح میں خلل واقع نہ ہو۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ قرآن کی تلاوت اور امامت ایک امانت ہے، اسے محبت، محنت اور اخلاص کیساتھ ادا کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں میں قرآن کی محبت اورعظمت پیدا ہو۔
قاری نیازاحمدقادری نے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ ’’ حفاظ کوسمجھانے کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی تاکہ وہ ان احساسات کے ساتھ تراویح میں کلام اللہ کی تلاوت کریں اور ان نکات کواپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کریں کیونکہ کلام ِ الہٰی کی برکت اوراس سے کماحقہ استفادہ اِسی صورت ممکن ہے، ورنہ انسان محروم رہ جاتا ہے۔ ‘‘