اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستانی سفیر نے پاکستان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ جموں کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا، ہے، اور رہے گا، ‘‘ساتھ ہی کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیا اورپاکستان پرجھوٹے بیانیے پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 10:04 PM IST | New York
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستانی سفیر نے پاکستان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ جموں کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا، ہے، اور رہے گا، ‘‘ساتھ ہی کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیا اورپاکستان پرجھوٹے بیانیے پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں جموں و کشمیر کا معاملہ اٹھانے پر پاکستان کو سخت جواب دیتے ہوئے اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ نئی دہلی نے اسلام آباد پر جھوٹے بیانیے پھیلانے کا الزام عائد کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ بعد ازاں ہندوستان نے سنیچر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جموں و کشمیر کے حوالے سے `غیر ضروری اشاروں پر پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔جبکہ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پروتھنی ہریش نے اسلام آباد پر الزام عائد کیا کہ وہ بار بار اقوام متحدہ کے پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرکے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتا ہے اور اندرونی معاملات پر گمراہ کن بیانیے پھیلاتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہی۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین: غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی، بین گوئیر پر پابندی زیرغور
واضح رہے کہ ان کے بیانات اس وقت آئے جب پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے اسلام آباد کی پوزیشن کا اعادہ کیا کہ یہ تنازع اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔جبکہ سخت جواب میں ہریش نے کہا،’’ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس فورم کو بھی اپنے اسی تقسیم کار سیاسی مفادات کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے نہیں بخشے گا۔ میں پاکستان کو یاد دلانا چاہوں گا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا رکن ہونا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ متعصبانہ اور جھوٹے بیانیے پھیلانے کا فورم نہیں ہے۔‘‘ مزید برآں انہوں نے پاکستان پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں غلط اور گمراہ کن مواصلات پھیلانے کا بھی الزام عائد کیا۔
دریں اثناء ہندوستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ہریش نے کہا کہ خطے کی حیثیت کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔جموں و کشمیر تھا، ہے، اور ہمیشہ ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ رہے گا۔ اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ بے بنیاد، حقائق سے خالی اور تاریخی حقائق سے متصادم ہے۔‘‘مزید یہ کہ پاکستان کی خالی تقریر اور جھوٹے دعوے اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افرادی قوت کی قلت: اسرائیلی معیشت میں ہندوستانی، تھائی، سری لنکن ملازمین بڑھ گئے
اس کے علاوہ ہریش نے سلامتی کونسل کی رکنیت میں مستقل اور غیر مستقل دونوں اقسام میں توسیع پر زور دیتے ہوئے اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال کو برقرار رکھنا مستقبل میں ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔ تاہم اپنی تقریر کے دوران انہوں نے آسٹریا، کرغزستان، پرتگال، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو اور زمبابوے کو۲۰۲۷-۲۸ء کی مدت کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی۔