Inquilab Logo Happiest Places to Work

پینگوئن انڈیا نے مظفر نگر فسادات ۲۰۱۳ء پر مبنی کتاب کو ہندوستان میں تقسیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا

Updated: June 06, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

”دی وَنس اینڈ فیوچر رائٹ“ کے مصنف جو ساکو اپنے گرافک صحافت کے کاموں کیلئے بین الاقوامی سطح پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں ”فلسطین“ (Palestine)، ”فٹ نوٹس ان غزہ“ (Footnotes in Gaza) اور ”ڈیز آف ڈسٹرکشن، ڈیز آف ریولٹ“ (Days of Destruction, Days of Revolt) شامل ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، معروف ناشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے گرافک ناول نگار جو ساکو کی غیر افسانوی کتاب ”دی وَنس اینڈ فیوچر رائٹ“ (The Once and Future Riot) کو ہندوستان میں تقسیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر فسادات پر مرکوز یہ کتاب پہلی بار اکتوبر ۲۰۲۵ء میں شائع ہوئی تھی جو ستمبر ۲۰۱۳ء میں خطے کو ہلا کر رکھ دینے والے مظفر نگر فرقہ وارانہ تشدد کے ایک سال بعد جو ساکو کے اتر پردیش کے شہر مظفر نگر کے دورے پر مبنی ہے۔

اس کتاب کو رواں سال اگست سے ہندوستان میں تقسیم کیا جانا تھا لیکن پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پبلشنگ ادارے نے کہا کہ وہ اپنے جائزہ عمل کے دوران سامنے آنے والے خدشات کو حل نہ کئے جانے کے بعد اس کی تقسیم کو آگے نہیں بڑھائے گا۔

دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے، پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) گورو شریناگیش نے کہا کہ ابتدائی جانچ اور قانونی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران اس کتاب پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ ان کے مطابق، ”ہم نے جو ساکو کی کتاب کے حوالے سے کچھ چیزوں کو نمایاں کیا تھا لیکن پینگوئن یونائٹیڈ کنگڈم نے ہمیں کوئی جواب نہیں دیا۔“

یہ بھی پڑھئے: لندن: سی جے آئی سوریہ کانت سے سوال: ’آپ کے تبصرے اختلاف رائے کےخلاف بڑھتی دشمنی کو ظاہر کرتے ہیں۔۔‘

شریناگیش کے مطابق، ایک بڑا خدشہ کتاب میں شامل ایک نقشہ تھا جس میں مبینہ طور پر ہندوستان کی غلط سرحدیں دکھائی گئی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی پبلشر نے کتاب کے کچھ مواد کے بارے میں وضاحتیں اور حوالہ جات مانگے تھے لیکن ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ”ایک مسئلہ کتاب میں موجود ایک نقشہ تھا جس میں ہندوسئ کی غلط سرحدیں دکھائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ، ہم نے مواد سے متعلق کچھ سوالات اٹھائے تھے اور حوالہ جات مانگے تھے جو کبھی نہیں ملے۔“ 

شریناگیش نے مزید کہا کہ کمپنی نے ہندوستان میں کتاب کی تقسیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جائزے کے عمل کے دوران سامنے آنے والے مسائل حل طلب ہی رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ”ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں: اگر ہمیں معلوم ہے کہ کوئی نقشہ غلط ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی، تو ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ان خدشات پر توجہ نہ دیئے جانے کے باعث ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کتاب کی کوئی تقسیم نہیں ہوگی۔“

یہ بھی پڑھئے: حبرون کے قریب اسرائیلی فائرنگ میں۷؍ ماہ کا فلسطینی شیرخوار بچہ ہلاک، والدین زخمی

واضح رہے کہ ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر فسادات میں کم از کم ۶۰ افراد ہلاک اور ہزاروں مسلم خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔ مظفر نگر اور پڑوسی ضلع شاملی میں جنسی استحصال اور بدسلوکی کی رپورٹیں بھی سامنے آئی تھیں۔ جو ساکو اپنے گرافک صحافت کے کاموں کیلئے بین الاقوامی سطح پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں ”فلسطین“ (Palestine)، ”فٹ نوٹس ان غزہ“ (Footnotes in Gaza) اور ”ڈیز آف ڈسٹرکشن، ڈیز آف ریولٹ“ (Days of Destruction, Days of Revolt) شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK