Inquilab Logo Happiest Places to Work

اترپردیش: کھوڑا میں جمعہ کی نماز میں خلل، ہندوتوا گروپ کی مسلم مخالف نعرے بازی

Updated: June 06, 2026, 10:05 PM IST | Luckhnow

اترپردیش کے کھوڑا میں ہندوتوا گروپ کے ذریعے جمعہ کی نماز میں خلل پیدا کیاگیا، ساتھ ہی مسجد کے قریب مسلم مخالف نعرے بازی کی، پولیس کے بھاری تعیناتی کے باوجودمساجد کے باہر ہندو رکشا دل اور دیگر ہندوتوا گروپوں کے کارکنوں کے جمع ہونے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی۔

Hindu Raksha Dal state president Lalit Sharma. Photo: X
ہندو رکشا دل کا ریاستی صدر للت شرما۔ تصویر: ایکس

اتر پردیش کے علاقے کھوڑا میں جمعہ کو مساجد کے باہر ہندو رکشا دل اور دیگر ہندوتوا گروپوں کے کارکنوں کے جمع ہونے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی۔ بھاری پولیس فورس کی موجودگی کے باوجود انہوں نے نماز میں خلل ڈالا اور مسلم مخالف نعرے لگائے۔نمازِ جمعہ کے دوران بڑی تعداد میں مظاہرین مساجد کے قریب جمع ہو گئے، جنہوں نے راستے بلاک کر دیے اور اجتماعی عبادت کو شدید طور پر متاثر کیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین کو ’’گولی مارو سالوں کو‘‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ پولیس کی طرف سے بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کے باوجود یہ ہجوم جمع ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کمار منگلم برلا نے آر ایس ایس کو ’’قوم سازی‘‘ کی ’’مضبوط قوت‘‘ قرار دیا

بعد ازاں حکام نے علاقے میں بھاری فورس تعینات کی، ڈی سی پی دھوول جیسوال سمیت اعلیٰ افسران کی قیادت میں فلیگ مارچ کیا، اور فرقہ وارانہ فساد کو روکنے کے لیے ڈرون نگرانی بھی کی۔ان احتجاجی مظاہروں میں ہندو رکشا دل اور راشٹریہ ہنومان دل سمیت کئی دائیں بازو کے گروپوں کے کارکن شریک تھے۔ ہندو مہاسبھا کی لیڈر ریا کِنر بھی مظاہرین میں شامل ہوئی اور مقامی مساجد میں اجتماعی نماز روکنے کی کوششوں کی حمایت کی۔اس نے کہا، ’’ہم بھی نماز نہیں ہونے دیں گے۔ اگر وہ ایک دن نماز نہیں پڑھیں گے تو ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔‘‘اس سے قبل پیر کو ہندو رکشا دل کے ریاستی صدر للت شرما نے اعلان کیا تھا، ’’ہم پورے علاقے میں جمعے کی نماز نہیں ہونے دیں گے،‘‘ اور اس نے حامیوں سے مسلمانوں کو نمازِ جمعہ سے روکنے کی اپیل کی، ساتھ ہی ایک مسلم سماج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے۔شرما نے فخر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اتراکھنڈ میں بھی مسلمانوں کی نماز روکی تھی۔ اس نے مسلمانوں کے لیے توہین آمیز لفظ استعمال کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کو چیلنج کیا۔
مزید برآں، شرما نے اجتماعی سزا کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ملزم بلکہ اس کے خاندان کے افراد کو بھی سزا ملنی چاہئے،جس ماں نے جنم دیا، وہ بھی اس سے گزرے... باپ کا بھی انکاؤنٹر ہو۔ ان کی پرورش کرنے والوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے رواں سال ۱۱۷۴؍ ہندوستانیوں کو ملک بدر کیا: وزارت خارجہ

یاد رہے کہ یہ تمام پیش رفت اس واقعے کے بعد ہوئی ہے جب۱۷؍ سالہ سوریہ پرتاپ چوہان کا مبینہ طور پر علاقے میں جھگڑے کے بعد چاقو سے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے بعد میں ملزم اسد کو انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا، جبکہ مقامی حکام نے اس کے گھر کو گرانے کا نوٹس جاری کیا۔ اس کے علاوہ حکام نے علاقے کے تین مدارس کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں۔بعد ازاں ناقدین نے ان اقدامات کو اجتماعی سزا قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ چند افراد کے مبینہ جرم کی سزا پورے سماج کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔اس کے علاوہ کھوڑا میں دائیں بازو کے میڈیا آؤٹ لیٹ اور یوٹیوبربھی متنازع اور اشتعال انگیز رپورٹنگ کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہےاور مقامی مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK