Updated: October 13, 2026, 8:02 PM IST
| New Delhi
”کیا جے این یو کو نجیب یاد ہے؟“ عنوان کے تحت جاری کردہ مشترکہ بیان میں باپسا (BAPSA)، فریٹرنٹی موومنٹ اور ایم ایس ایف (MSF) نے کہا کہ ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی یہ سوالات جواب طلب ہیں کہ ”نجیب کہاں ہے؟“ اور ”اس کی جبری گمشدگی کا ذمہ دار کون ہے؟“ ایم ایس سی بائیوٹیکنالوجی کے فرسٹ ایئر کے طالب علم نجیب ۱۵ اکتوبر کو کیمپس سے لاپتہ ہوگئے تھے، اس سے ایک روز قبل مبینہ طور پر ہاسٹل میں اے بی وی پی (ABVP) کے ایک ہجوم نے ان پر حملہ کیا تھا۔
۱۵ اکتوبر کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم محمد نجیب کی گمشدگی کو دس سال مکمل ہو جائیں گے لیکن پولیس ابھی تک اس کا سراغ لگانے کی ناکام رہی ہے۔ باپسا (BAPSA)، فریٹرنٹی موومنٹ اور ایم ایس ایف (MSF) نے نجیب احمد کی گمشدگی کی دسویں برسی سے قبل ۱۴ اکتوبر کو جے این یو میں ”نجیب کیلئے انصاف“ نامی مشترکہ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ طلبہ رات ۹ بجے بارک ہاسٹل سے گنگا ڈھابہ تک مارچ کریں گے۔
”کیا جے این یو کو نجیب یاد ہے؟“ عنوان کے تحت جاری کردہ مشترکہ بیان میں تنظیموں نے کہا کہ ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی یہ سوالات جواب طلب ہیں کہ ”نجیب کہاں ہے؟“ اور ”اس کی جبری گمشدگی کا ذمہ دار کون ہے؟“ ایم ایس سی بائیوٹیکنالوجی کے فرسٹ ایئر کے طالب علم نجیب ۱۵ اکتوبر کو کیمپس سے لاپتہ ہوگئے تھے، اس سے ایک روز قبل مبینہ طور پر ہاسٹل میں اے بی وی پی (ABVP) کے ایک ہجوم نے ان پر حملہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یوگی کی تقریر پر کارروائی کا مطالبہ کرنے والے سابق صحافی پرویز پرواز کا انتقال
طلبہ تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں اس وقت کی بائیں بازو کی قیادت والی جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (JNUSU) پر غفلت برتنے اور نجیب کو مجرم ٹھہرانے میں ساز باز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آئیسا (AISA) سے تعلق رکھنے والے اس وقت کے صدر موہت پانڈے اور آئیسا کے ایک اور طالب علم نے ہاسٹل وارڈن کو دیئے گئے ایک خط پر دستخط کئے تھے جس میں نجیب کو مجرم کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ایک اور خط میں انہیں ذہنی طور پر بیمار قرار دیا گیا۔ ان اقدامات نے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جسے بعد میں انتظامیہ، دہلی پولیس اور سی بی آئی نے اپنا لیا۔
تنظیموں نے مزید کہا کہ یونین کی قیادت نے ابتدائی چالیس گھنٹوں تک اس معاملے کو طلبہ سے چھپائے رکھا اور اسلامو فوبیا کو محض ”لچھے دار اصطلاح“ (jargon) قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انہوں نے جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن پر بھی تنقید کی کہ اس نے ایک سال سے زائد عرصے تک اس معاملے پر کوئی نوٹ جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر میں داخل ہونے کی کوشش، سی جے پی کے آشوتوش رانکا، سورَو داس حراست میں
تحقیقات پر سوالات
تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سی بی آئی نے مئی ۲۰۱۸ء میں ایک عدالت کو بتایا کہ اسے نجیب کے خلاف کسی جرم کے شواہد نہیں ملے۔ ابتدائی دنوں میں ایجنسیوں نے ان دعوؤں کے ذریعے انہیں ”دہشت گرد“ تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کی کہ وہ جامعہ گئے تھے، دربھنگہ میں دیکھے گئے یا داعش (ISIS) میں شامل ہوگئے۔ دہلی ہائی کورٹ نے داعش سے متعلق رپورٹس کو جھوٹا قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ تنظیموں نے جامعہ اور دربھنگہ کے حوالوں کو ”اسلامو فوبک ڈاگ وسل سیاست“ قرار دیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پراکٹوریل انکوائری میں حملہ آوروں کے تشدد میں ملوث پائے جانے کے باوجود سی بی آئی نے ان سے حراستی پوچھ گچھ نہیں کی اور تین فونز کی جانچ پڑتال اس لیے چھوڑ دی کیونکہ ان پر پیٹرن لاک لگا ہوا تھا۔ بیان میں ہائی کورٹ پر بھی تنقید کی گئی کہ اس نے ایجنسی کو اپنے ”فرائض سے غفلت“ کے احتساب سے بچنے کی اجازت دی۔
یہ بھی پڑھئے: پاکسو ایکٹ کے غلط استعمال پرالہ آباد ہائی کورٹ کو تشویش
اسلامو فوبیا کا وسیع تر الزام
تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ناکامی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ وقار سے پیش نہ آنے کی عکاس ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم طلبہ کے خلاف تشدد کو الگ تھلگ جھگڑوں کے بجائے اسلامو فوبیا کے وسیع تر نظام کے حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم ذاتوں، قبائل اور مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بدستور غیر محفوظ ہیں کیونکہ ان کی موجودگی ”برہمنیت اور اسلامو فوبک اقتدار کے ڈھانچے“ کو چیلنج کرتی ہے۔
جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
بیان میں نجیب کے ”ہوا میں غائب ہو جانے“ کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ”ہم یہاں صرف اس دن کو منانے کیلئے نہیں ہیں۔“ تنظیموں نے نجیگ کی والدہ فاطمہ نفیس کی جانب سے انصاف کیلئے اٹھائی گئی آواز کو آگے بڑھانے اور اہلِ خانہ کی مسلسل حمایت کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہٹ دھرم ناانصافی اور بے حسی کے باوجود، مزاحمت کرنا ہمارا فرض ہے۔“