اپوزیشن کا شدید احتجاج۔’انقلاب زندہ باد‘ اور’ تاناشاہی نہیں چلے گی ‘کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا۔بعض کارپوریٹر بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے ۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 12:41 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
اپوزیشن کا شدید احتجاج۔’انقلاب زندہ باد‘ اور’ تاناشاہی نہیں چلے گی ‘کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا۔بعض کارپوریٹر بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے ۔
دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی ظالمانہ کارروائی کی بازگشت جمعرات کو کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی جنرل باڈی میٹنگ میں بھی سنائی دی۔ اجلاس کے دوران شیو سینا (ادھو)، مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس)، کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کے اراکین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ہاتھوں میں ترنگا تھامے اراکین نے’انقلاب زندہ باد‘کے فلک شگاف نعرے لگائے جس سے پورا ایوان گونج اٹھا۔ادھر ہنگامے کے درمیان حکمراں پارٹی نے اجلاس کے سیکریٹری سے ایجنڈے کے نکات تیزی سے پڑھوا کر انہیں منظوری دلوا دی جس کے باعث اپوزیشن نے اس پر سخت اعتراض کیا اور جنرل باڈی میٹنگ شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کی حمایت میں ونچت بہوجن اگھاڑی کا زبردست احتجاج
جمعرات کوہونے والی جنرل باڈی میٹنگ کے آغاز میں ایم این ایس کے کارپوریٹر پرلہاد مہاترے اور گنیش لانڈگے نے دہلی میں طلبہ پر ہونے والے لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے جنرل باڈی میٹنگ ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی جس کی شیو سینا (ادھو) کے گروپ لیڈر امیش بورگاوںکر نے بھی تائید کی۔صورتحال کو دیکھتے ہوئے میئر ہرشالی چودھری نے اجلاس کو ۱۵ ؍منٹ کے لئےملتوی کر دیا۔وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن نے پورے دن کے لئے اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ دہرایا لیکن میئر نے اسے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد اپوزیشن اراکین ہاتھوں میں ترنگا تھامے ’انقلاب زندہ باد‘،’تاناشاہی نہیں چلے گی‘ اور دیگر احتجاجی نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں ڈٹ گئے جبکہ بی جے پی کے اراکین نے’جے شری رام‘ کے نعروں سے جواب دیا جس سے ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: بی ایم سی کی کینٹین سیـٖل ہونے پر متعلقہ افسر سے بازپرس
اسی دوران بی جے پی کے کارپوریٹر دیپیش مہاترے نے کہا کہ ایم این ایس اگر واقعی احتجاج کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو پہلے شندے سینا کی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے کیونکہ اقتدار میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا دوہرا معیار ہے۔ اس پر شندے سینا کے کارپوریٹر مہیش گائیکواڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقتدار کی نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کی لڑائی ہے۔اس لئے اسے سیاسی عینک سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ بعض بی جے پی کارپوریٹروں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو دہلی جاکر کرے۔شدید شور و ہنگامے کے درمیان میونسپل سیکریٹری کشور شیلکے نے ایجنڈے کے نکات تیزی سے پڑھ کر کارروائی مکمل کی۔اپوزیشن نے اس طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا اور اسے جمہوری روایات کے منافی قرار دیا۔میٹنگ ختم ہونے کے بعد بھی اپوزیشن کے اراکین نے چوتھی منزل سے نیچے تک مسلسل احتجاج جاری رکھا اور دہلی میں طلبہ پر لاٹھی چارج کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔بعض کارپوریٹر بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔