تعلیمی سال ختم ہونے میں ۲،۳؍ مہینے ہی رہ گئے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن ۸؍تا ۱۰؍جنوری ان طلبہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے داخلہ دلانےکی کوشش کرےگا۔
گزشتہ ماہ آخری اسپیشل راؤنڈ میں ریاست بھر کے۳۰۰؍ طلبہ نے درخواست دی تھی۔ تصویر: آئی این این
تعلیمی سال ختم ہونے میںصرف ۲، ۳؍ مہینے باقی رہ گئے ہیں، اس کےباوجود اب تک گیارہویں میں داخلہ کا عمل نامکمل ہے۔ ایک مرتبہ پھرتقریباًً ۱۰۰؍طلبہ کے داخلے کیلئے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ہدایت جاری کی ہے ۔ جونیئر کالجوں کے اساتذہ نے اس معاملہ میں سخت تنقید کی ہے۔
واضح رہےکہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ۱۳؍ سے ۱۷؍ دسمبرکے درمیان ایک خصوصی رائونڈ کاانعقاد کیاتھاتاکہ کوئی بھی طالب علم ۱۱؍ویں جماعت میں داخلے سے محروم نہ رہے، اس کےباوجود اب بھی تقریباً ۱۰۰؍ طلبہ نے داخلہ نہیں لیا ہے۔لہٰذا اب ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کادفتر ان طلبہ سے فون پر رابطہ کر کے داخلے کے بارے میں دریافت کرےگا۔مذکورہ راؤنڈ میں ریاست بھر سے ۳۰۰؍سے زیادہ طلبہ نے درخواست دی تھی ۔ بعدازیں اس فائنل اسپیشل راؤنڈ کیلئے سلیکشن لسٹ کا اعلان کیا گیا جس میں شامل تقریباً۱۰۰؍ طلبہ نے اب تک داخلہ نہیں لیا ہے۔ اب ان طلبہ کو داخلہ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کا دفتر ان طلبہ سے ۸؍تا ۱۰؍جنوری کے درمیان ٹیلی فون سے رابطہ کرے گا اور ان سے آن لائن سسٹم کے ذریعے داخلہ کا عمل مکمل کرنے کی درخواست کرے گا۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے متعلقہ طلبہ کی فہرست ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے دفتر کو فراہم کی جائے گی۔ اس فہرست کے مطابق مذکورہ دفتر کو طلبہ کے داخلے کا عمل مکمل کرنا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے واضح کیا ہے کہ طلبہ کے جواب کے بعد گیارہویں کے داخلوں کا عمل بند کر دیا جائے گا۔
ڈاکٹر سچیتا پاٹیکر( ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن )کے مطابق ’’یہاں ا س بات کا بھی امکان ہےکہ جن طلبہ نے داخلہ نہیں لیا ہے، انہوں نے آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنیک اور دسویں کے بعد کے دیگر کورسیز میں داخلہ لیا ہولیکن اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ کوئی بھی داخلے سے محروم نہ رہے، داخلہ کے عمل کو بند کرنے سے قبل ان طلبہ کی ٹیلی فون کے ذریعے تصدیق کی جائے گی تاکہ یہ واضح ہو کہ تمام طلبہ کو داخلہ مل گیا ہے۔‘‘
مختلف جونیئر کالج کے اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے اس معاملہ پر تنقیدکی ہے ۔ ان کاکہناہےکہ تعلیمی سال کاپہلا سمسٹر ختم ہوچکاہے دوسرا سمسٹربھی ۲؍ سے ۳؍ مہینوںمیں مکمل ہوجائے گا۔ایسے میں جن طلبہ کو گیارہویں میں داخلہ دیاجائے گا ،وہ نصاب کیسے مکمل کریں گے ۔ان کی پڑھائی کے نقصان کی بھرپائی کیسے کی جائے گی۔ چنانچہ اس معاملہ میں ہونےوالی بدنظمی قابل گرفت ہے ۔
اس بارے میں اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے کہا کہ ’’ امسال پوری ریاست میں گیارہویں جماعت کے آن لائن داخلہ پالیسی کی وجہ سے متعدد تکنیکی دشواریاں سامنے آئی ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کےمسائل پیدا ہورہے ہیں۔ شہری علاقوں سے قطع نظر دیہی علاقوں کیلئے آن لائن ایڈمیشن کی کارروائی غیر مناسب ہے۔ چنانچہ جن طلبہ کا داخلہ ابھی تک نہیں ہواہے ،اس کی اہم وجہ مذکورہ پالیسی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ محکمہ تعلیم سے اپیل ہےکہ آئندہ سال اس معاملہ پر نظرثانی کرے اور داخلہ کی کارروائی آسان بنائے ورنہ اس طرح کی پیچیدگیاں آتی رہیں گی۔‘‘