Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ پیپر لیک کا ۱۰؍ واں ملزم شیوراج رگھوناتھ لاتور سے گرفتار

Updated: May 19, 2026, 9:31 AM IST | Latur

ملزم کے فون سے لیک پرچہ برآمدہوا، اس کی کلاسیز میں داخلہ کو ڈاکٹری میں داخلہ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔

Shivraj Raghunath.Photo:INN
شیوراج رگھوناتھ- تصویر:آئی این این
نیٹ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے پیر کو مہاراشٹر کے لاتور شہر سے کوچنگ کلاس  کے  ایک مالک کو گرفتار کیا ہے۔  یہ اس معاملے میں ۱۰؍ ویں گرفتاری ہے۔ شیوراج رگھوناتھ موٹیگاؤکر جو ’رینوکائی کریئر سینٹر‘ کے نام سے کلاسیز چلاتا ہے، کی کلاسیز میں  داخلہ کو ہی نیٹ میں کامیابی اور ڈاکٹری  میں  داخلہ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ اتوار کو سی بی آئی کی جانب سے کی گئی تفتیش کے دوران شیوراج کے موبائل فون پر میڈیکل امتحان(نیٹ) کا ایک لیک شدہ سوالنامہ ملا تھا۔ اس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔سی بی آئی نے اتوار کو ملزم کے کئی ٹھکانوں پر چھاپے ماری کی تھی۔ تحقیقات کے دوران شیوراج کے موبائل فون سے مبینہ طور پر نیٹ یوجی امتحان کا لیک سوالنامہ ملا۔ اس کے بعد ایجنسی نے اسے گرفتار کر لیا۔ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ شیوراج اس منظم گروہ کا سرگرم رکن تھا، جو نیٹ یوجی  ۲۶ء امتحان کے سوالنامے لیک کرنے اور اسے پھیلانے میں شامل تھا۔
 
 
سی بی آئی کے مطابق ملزم نے دیگر ملزموں کے ساتھ مل کر نیٹ یوجی امتحان سے قبل ہی۲۳؍ اپریل۲۶ء کو سوالنامہ اور اس کے جوابات حاصل کر لئے تھے۔ اس کے بعد اس نے یہ پیپر کئی لوگوں تک پہنچایا۔ فی الحال سی بی آئی معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے اور پیپر لیک نیٹ ورک سے منسلک دیگر لوگوں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں آگے اور گرفتاریاں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔۲؍ فروری ۱۹۸۰ء کو پیدا ہونےوالے شیوراج   رگھوناتھ موٹیگاؤکر نے ایم ایس سی( کیمسٹری) میں گولڈ میڈل حاصل کیاتھا۔ وہ ۲۰۲۳ء  سے لاتور میں کوچنگ کلاسیز چلارہا ہے جو عرف عام میں ’’آر سی سی‘‘ کے طور پر مشہور ہے۔اس کی کلاسیز کی شاخیں ناسک،ا ورنگ آباد، ناندیڑ، شولاپور، کولہاپور ، آکولہ اور دیگر جگہوں پر موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK