• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قحط زدہ تعلقوں کے اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کی امتحانی فیس معاف کرنے کا اعلان

Updated: September 27, 2026, 10:36 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے یہ اہم فیصلہ کیا ہے کہ خشک سالی سے متاثر علاقوں کے طلبہ کو مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیمی نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

A decision bringing relief to students. Photo: INN
طلبہ کیلئے راحت کافیصلہ ہے۔ تصویر: آئی این این

حکومت نے قحط زدہ تعلقوں کے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے طلبہ کی امتحانی فیس معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کے تحفظ کیلئے ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی بحران کی وجہ سے تعلیم میں تعطل کے خدشے کو دور کر کے طلبہ کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اس سے ریاست کے لاکھوں طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ اس سال ریاست میں ناکافی بارش اور فصلوں کا بھاری نقصان ہونے کی وجہ سے کسانوں کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں ، ریاستی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی قیادت والی ریاستی حکومت نے خشک سالی کا اعلان کیا ہے اور کل ۳۵۸؍ میں سے ۲۶۵؍تعلقوں کو قحط زدہ قرار دیاہے۔ 
واضح رہے کہ تقریباً ۷۵؍ فیصد علاقے خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں۔ باقی ۹۳؍ تعلقہ کو نسبتاً تسلی بخش بارش کی وجہ سے اس فہرست سے علاحدہ رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲؍اکتوبرکوممبئی میں تاجروں کا ’نویوپی آئی ڈے‘ منانے کا اعلان

خشک سالی کا اثر صرف زراعت اور کسانوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ زراعت پر انحصار کرنے والے خاندانوں کی آمدنی میں تیزی سے آنے والی کمی کے باعث ان کیلئے بچوں کے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے کہ طلبہ کو مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیمی نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قحط زدہ علاقوں کے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے طلبہ کی امتحانی فیس معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 
اس فیصلے سے کسانوں کے بچوں کو بڑی راحت ملے گی۔ امتحانی فیس کی معافی سے مالی بوجھ کم ہو جائے گا اور طلبہ اپنی تعلیم باقاعدگی سے جاری رکھ سکیں گے۔ اس سے تعلیمی اداروں میں آسانی سے داخلے، امتحانات اور متعلقہ عمل میں مدد ملے گی۔ فیس میں چھوٹ کیلئے کن امتحانات اور اداروں کو شامل کیا جائے گا اس کی تفصیلات متعلقہ حکومتی احکامات میں جلد واضح کر دی جائیں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK