دستاویزات اور سماعت کا عمل بھی مکمل، تاہم نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوا یا نہیں یہ جاننے کے لئے ووٹرز پریشان۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 3:39 PM IST | Ali Imran | Nagpur
دستاویزات اور سماعت کا عمل بھی مکمل، تاہم نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوا یا نہیں یہ جاننے کے لئے ووٹرز پریشان۔
ایس آئی آر کے عمل پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک طرف اس عمل کو نافذ کرنے والے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک جاری ہے، تو دوسری جانب ایس آئی آر کا عمل بھی جاری ہے۔ ایس آئی آر کے تحت جن ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے، ان سے مطلوبہ دستاویزات حاصل کی گئیں اور ان کی سماعت بھی کی گئی، لیکن تاحال ووٹروں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رکھے گئے ہیں یا نہیں۔
ناگپور ضلع میں ۲۰۰۲ ءمیں ۴؍ لاکھ ۱۸؍ہزار ۱۲ ووٹر تھے۔ ووٹر لسٹ کے ساتھ میپنگ نہ ہونے کے باعث ۴ ؍لاکھ ۴۷؍ ہزار ۸۷۴ ؍ووٹروں کے ریکارڈ میں نام، کنیت اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ ایسے ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً ۸ ؍لاکھ ۶۵ ہزار ۸۸۶ ؍بتائی گئی ہے۔ ان ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے، ان سے ضروری دستاویزات حاصل کی گئیں اور ان کی سماعت بھی کی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت کے ذریعے ووٹروں کو دستاویزات پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ ووٹروں نے اپنے کاغذات بی ایل اوز کے پاس جمع کرائے، جنہیں اپ لوڈ بھی کیا جانا ہے۔ اسکے بعد ووٹر رجسٹریشن سے متعلق معاون انتخابی افسران (اے ای آر او) کو ان دستاویزات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کے ’ستیہ گرہ آندولن‘ میں شدت
کمیشن کی ہدایات کے مطابق پہلے مرحلے میں اے ای آر اوز نے ووٹروں کی سماعت کی۔ جن ووٹروں کی سماعت مکمل ہوچکی ہے، ان کے معاملے میں پس منظر اور متعلقہ تفصیلات کا جائزہ لے کر مختصر تبصرے کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگر کسی ووٹر کے دستاویزات قبول کرلیے جاتے ہیں تو اس کا نام برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ نام خارج کیے جانے کی صورت میں متعلقہ ووٹر کو اس بارے میں مطلع کیا جائے گا۔
دستاویزات جمع کرانے کے باوجود ابہام برقرار
نوٹس موصول ہونے والے ووٹروں کو دستاویزات جمع کرانے کے بعد بھی یہ سوال پریشان کر رہا ہے کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہے گا یا نہیں۔ دستاویزات جمع کرادینے یا ان کی منظوری کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ووٹر لسٹ میں نام برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔ اسی وجہ سے ووٹروں میں مزید ابہام پیدا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر ان ووٹروں کو ابھی تک یہ معلومات نہیں مل سکی ہے جنہوں نے بی ایل او کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرائی ہیں کہ ان کی دستاویزات کی تصدیق مکمل ہوئی ہے یا نہیں، کسی قسم کی خامی پائی گئی ہے یا نہیں، اور اے ای آر او نے ان کے معاملے میں کیا فیصلہ کیا ہے۔ توقع تھی کہ ووٹروں کو ان کے نام کے حوالے سے فیصلے سے ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جائے گا، لیکن بہت سے ووٹروں کو تاحال کوئی ایس ایم ایس موصول نہیں ہوا۔ اس باعث ووٹروں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ سماعت کا عمل ۲۳؍ستمبر سے شروع ہوا تھا اور آج دس دن گزرنے کے باوجود اطلاعات کے مطابق ایک بھی ووٹر کو ایس ایم ایس موصول نہیں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سب ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔