• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان میں گزشتہ ۴۰؍گھنٹوں میں۱۴۵؍ بلوچ جنگجوؤں کو مارا گیا

Updated: February 02, 2026, 12:52 PM IST | Agency

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنگجو صوبے بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن میں مارے گئے، اس سے قبل بلوچستان لبریشن آرمی نے ۱۶؍ مقا مات پر حملے کئے تھے۔

Balochistan Chief Minister Sarfraz Bugti. Picture: INN
بلوچستان کےو زیر اعلیٰ سرفراز بگٹی۔ تصویر: آئی این این
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ۴۰؍ گھنٹوں کے دوران کم از کم۱۴۵؍ بلوچ جنگجو مارے گئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبون کی خبر کے مطابق، بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جنگجو صوبے بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو منصوبہ بند حملوں کے بارے میں پیشگی اطلاع تھی جس کے نتیجے میں شمال مشرقی کوئٹہ، پنجگور اور شیرانی سمیت دیگر علاقوں میںکارروائیاں شروع کی گئیں ۔ کوئٹہ، گوادر، قلات، خاران، مستونگ، پسنی، دال بندین، نوشکی، بلیدہ، تمپ، مچھ سمیت بلوچستان میں کم از کم۱۶؍ مقامات پرحملوں کے بعد یہ کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں ’آپریشن ہیروف ‘کا دوسرا مرحلہ قرار دیا۔ 
بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ تشدد میں۸۴؍پاکستانی سیکوریٹی اہلکار مارے گئے،۱۸؍ زندہ پکڑے گئے،۳۰؍ سرکاری املاک کو تباہ یا ضبط کیا گیا اور دشمن کی۲۳؍ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ بی ایل اے نے یہ بھی کہا کہ اس نے کئی شہروں میں نقل و حرکت کو محدود کرتے ہوئے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر سمیت دشمن کی کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کئی ویڈیوز نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ 
دوسری جانب بلوچ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا ’’ہمارے پاس انٹیلی جنس اطلاعات تھیں کہ اس کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، اس لیے ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کیا، وہ ایسے ہی حملے کرنا چاہتے تھے، خاص طور پر کوئٹہ کے شمال مشرقی علاقوں میں جس کی وجہ سے وہاں ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا۔ بگٹی نے کہا کہ سیکوریٹی فورسیز صوبے کے دیگر حصوں میں چوکس رہیں جہاں بعد میں واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ۴۰؍ گھنٹے کے عرصے میں۵۸۰۰؍سے زیادہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی گئیں ۔ انہوں نے جنگجوؤں پر خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ 
گوادر میں ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک محلے میں ۵؍ خواتین اور ۳؍ بچے اس وقت مارے گئے جب وہ اپنی جان کی بھیک مانگ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں حملوں کے دوران جنگجوؤں نے بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔  بگٹی نے کہا’’وہ اپنے ساتھ ایک۱۱؍ سالہ بچے کو لے کر آئے۔ کیا میری پولیس کو ایک۱۱؍ سالہ بچے کو مارنا چاہیے؟ وہ بچوں کو سڑکوں سے اٹھا کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آپ ہمیں چھوڑ کر کیا انتخاب کریں گے؟‘‘وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی شہر پر قبضہ نہیں ہوا اور کوئٹہ کے بیشتر علاقوں میں روزمرہ کی زندگی معمول پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شہر پر قبضہ نہیں کیا گیا۔ میں خود کوئٹہ کے گرد گھوم رہا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK