• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کی بندرعباس بندرگاہ پردھماکے کے بعد ایرانی نیول کمانڈر کے قتل کی افواہیں

Updated: February 02, 2026, 12:57 PM IST | Agency | Washington

جنوبی ایران کی بندرگاہ بندر عباس میں دھماکے کے واقعے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا، بالخصوص ٹیلی گرام پر ایرانی بحریہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا تنگسیری کے قتل سے متعلق افواہیں گردش کرنے لگیں۔

Commander Ali Reza. Picture: INN
کمانڈر علی رضا۔ تصویر: آئی این این
جنوبی ایران کی بندرگاہ بندر عباس میں دھماکے کے واقعے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا، بالخصوص ٹیلی گرام پر ایرانی بحریہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا تنگسیری کے قتل سے متعلق افواہیں گردش کرنے لگیں۔ تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل خیریت سے ہیں۔اسی دوران ایک باخبر ذریعے نے بھی بتایا کہ علی رضا تنگسیری کی صحت بہتر ہے اور بحریہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ افواہ دانستہ طور پر عوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے اور عدم استحکام پیدا کرنے کے مقصد سے پھیلائی گئی۔مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حکام نے زور دیا ہے کہ یہ خبر ایران مخالف حلقوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، جس کا مقصد افراتفری پیدا کرنا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ افواہ مخصوص مخالف ذرائع کے ذریعے نفسیاتی آپریشن کے دائرۂ کار میں دوبارہ پھیلائی گئی تاکہ عوامی رائے کو پریشان اور قومی حوصلے کو کمزور کیا جا سکے۔حالیہ عرصے میں متعدد ایرانی اور فوجی حکام بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ملک کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے اور افواہیں پھیلانے کیلئے بیرونی مہمات جاری ہیں۔ اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بھی سنیچر کو ان کوششوں کا ذکر کیا تھا جن کا مقصد ملک میں بدامنی کو ہوا دینا اور عوام کو اشتعال دلانا ہے۔واضح رہے کہ نیول کمانڈر کے قتل کی افواہ رات کے وقت ٹیلی گرام چینلز کے ذریعے شروع ہوئی، جن میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ بعدازاں بندر عباس میں ایک رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے نے ان افواہوں کو مزید تقویت دی۔واضح رہےکہ ایران اورامریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK