مزید کئی لوگوں کی حالت خراب، ملاوٹی شراب بنانے والے یوگیش وانکھیڈے سمیت۸؍ گرفتار۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 11:09 AM IST | Pune
مزید کئی لوگوں کی حالت خراب، ملاوٹی شراب بنانے والے یوگیش وانکھیڈے سمیت۸؍ گرفتار۔
جمعہ کے روز اس وقت ریاست بھر میں کہرام مچ گیا جب پونے کے مختلف مقامات سے زہریلی شراب کے سبب ہونے والی اموات کے تعلق سے خبریں آنے لگیں۔ اطلاع کے مطابق پونے کے پمپری چنچوڑ اور ہڈپسر میں الگ الگ مقامات پر۴۸؍ گھنٹوں کے اندر ۱۵؍ اموات ہوئیں۔ ان سبھی کی موت شراب پینے کے بعد ہوئی۔ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مہلوکین نے ملاوٹی شراب پی رکھی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جوہاتھ بھٹی ( دیسی شراب کا کارخانہ) چلایا کرتا تھا۔ اس پر پہلے بھی کئی معاملے درج ہیں۔
اطلاع کے مطابق پونے کے پمپری چنچوڑ میں واقع ہڈپسر، کالے پڈل، پھوگے واڑی اور داپوڑی علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کو ایک جیسے واقعات پیش آئے۔ کچھ لوگوں کو شراب پینے کے بعد پیٹ میں درد ہونے لگا۔ اس کے بعد ان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا اور ان کی موت ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی موت شراب پینے سے ہوئی ہے جبکہ شراب کے نمونوں کی جانچ سے معلوم ہوا کہ اس میں کوئی کیمیکل ملایا گیا ہے۔
ایک کے بعد ایک ہونے والی ان اموات سے جہاں ان علاقوں میں سنسنی پھیل گئی وہیں انتظامیہ بھی حرکت میں آیا۔ پولیس نے ان دکانوں کو شراب سپلائی کرنے والے یوگیش وانکھیڈے نامی شخص کو گرفتار کر لیا۔ کہا جا رہا ہے کہ یوگیش وانکھیڈے ہاتھ بھٹی (دیسی شراب کا کارخانہ) چلاتا ہے اور علاقے کی مختلف دکانوں کو شراب سپلائی کرتا ہے۔ اس کے اوپر پہلے بھی ملاوٹی شراب بیچنے کا معاملہ درج کیا گیا تھا اور اس کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی۔ اس کے علاوہ مزید ۷؍ لوگوں کو پولیس نے پکڑا ہے۔ یاد رہے کہ ۱۵؍ افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ متعدد افراد کی حالت خراب ہے جنہیں علاج کیلئے اسپتال میں بھرتی کروایا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یوگیش نے شراب میں متھنال ملائی تھی جس کے سبب شراب زہریلی ہو گئی اور پینے والوں کی فوری موت کا سبب بنی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ نے بین المذاہب شادی کیس میں محمد قاسم کو ۱۸ سال بعد بری کر دیا
وزیر اعلیٰ نے سخت کارروائی کا حکم دیا
اس دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا ہے کہ ’’ میں نے پونےکے پولیس کمشنر سے بات کی ہے۔ یہ ایک طرح سے قتل کا معاملہ ہے۔ جس کسی نے اس طرح کی شراب بنائی ہے اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ فی الحال ۸؍ لوگوں گرفتاری ہوئی۔ مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ متاثرین کے بہتر علاج کی ہدایت دی گئی ہے۔ کسی طرح ان لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
روہت پوارکی پمپری چنچوڑ میں شراب کی دکان پر توڑ پھوڑ، پولیس پر ’بڑی مچھلی‘ کو بچانے کا الزام
زہریلی شراب پینے کے سبب ۴۸؍ گھنٹوں میں ہونے والی ۱۵؍ اموات نے ریاست بھر میں ناراضگی پھیلا دی ہے۔ اب اس کا رد عمل بھی سامنے آنے لگا ہے۔ جمعہ کے روز این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے خود اپنے کارکنان کے ساتھ جا کر پمپری چنچوڑ میں اس دکان میں توڑ پھوڑ مچائی جس میں شراب پینے کے بعد کچھ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
اطلاع کے مطابق روہت پوار جمعہ کے روز پمپری چنچوڑ کے ان خاندانوں سے ملنے پہنچے جن کے افراد زہریلی شراب پینے سے فوت ہو گئے۔ مہلوکین کے اہل خانہ سے گفتگو کے بعد وہ جذباتی ہو گئے اور وہ اپنے کارکنان کو لے کر اس دکان پر پہنچے جہاں ان مہلوکین میں سے چند نے شراب پی تھی۔ روہت پوار نے جوش دکھاتے ہوئے خود اپنے ہاتھو ں سے اس دکان کا کائونٹر پھوڑ ڈالا۔ جبکہ کارکنان نے دکان کا چھپرا وغیرہ اکھاڑ پھینکا۔ روہت پوار نے الزام لگایا کہ ’’ پولیس بڑی مچھلی کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس نے خود ایک ملزم سے کہا ہے کہ وہ روپوش ہو جائے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’جب سسٹم کام نہ کرے، جب پولیس کی طاقت کم پڑ جائے تب کچھ چیزیں اپنے ہاتھ میں لینی پڑتی ہیں۔ ‘‘ روہت پوار نے کہا ’’ کیا بی جے پی حکومت کو دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ زہریلی شراب پینے والے سبھی لوگ ہندو تھے؟ ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ ‘‘ انہوں نے پولیس سے اس سانحہ کیلئے ذمہ دار لوگوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
شیوسینا (ادھو) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے اس معاملےمیں پولیس کی کارروائی کو دکھاوا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ وہ (حکومت) لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں اور ان پر کارروائی کرتے ہیں مگر صرف دکھاوے کیلئے۔ حال ہی میں ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں پونے کے کلیانی نگر میں پورشے گاڑی سے ۲؍ لوگوں کو کچل دینے والے نابالغ ملزم ( جو اب بالغ ہے) کو شراب پیتے ہوئے جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ ابھی ابھی جیل سے چھوٹا ہے۔ ‘‘ آدتیہ ٹھاکرے نے سوال کیا کہ یہ کیسی کارروائی ہے کہ سزا کے بعد بھی لوگ جشن منا رہے ہیں ؟ انہوں نےپونے میں ہوئی اموات کے معاملے میں خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس ترجمان گوپال دادا تیواری نے اس معاملے کو دیویندر فرنویس حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر پونے سانحہ کے خاطیوں کو حکومت نے سخت سزا نہیں دی تو کانگریس کارکنان سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے کیونکہ اس کیلئے وزارت داخلہ ذمہ دار ہے۔