یہ ریلی کرناٹک تک جائے گی، سائیکل سواروں میں ڈاکٹر، وکیل، پولیس، آئی ٹی پروفیشنل، ریلوے افسران، اساتذہ، تاجر اور ہندوستانی بحریہ نیز ایکسائز ڈیوٹی افسران شامل۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 10:44 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
یہ ریلی کرناٹک تک جائے گی، سائیکل سواروں میں ڈاکٹر، وکیل، پولیس، آئی ٹی پروفیشنل، ریلوے افسران، اساتذہ، تاجر اور ہندوستانی بحریہ نیز ایکسائز ڈیوٹی افسران شامل۔
مہاراشٹر میں جاری شدید خشک سالی اور آبی بحران کے سنگین پس منظر میں سماجی بیداری کی ایک انوکھی اور قابل تحسین مثال سامنے آئی ہے۔ پانی کی بچت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا پیغام عوام الناس تک پہنچانے کے لیے کلیان اور ڈومبیولی کے ۱۹؍پیشہ ور افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے ۹۰۰ کلومیٹر طویل اور پُر خطر سائیکل مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔
سنیچر کے روز درگاڑی چوک پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران سائیکل مہم کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی میراتھن رنر دلیپ گھاڈگے، روٹری کلب آف کلیان کے نمائندے کیلاش دیشپانڈے، ممتاز تاجر سنجے کالوکھے سمیت علاقے کی کئی معروف سماجی اور سیاسی شخصیات موجود تھیں۔ شرکاء نے مہم جوؤں کے اس عزم کو خوب سراہا اور اسے موجودہ وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اس کٹھن مہم کی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں شامل شرکاء کا تنوع ہے جس میں زندگی کے مختلف اہم شعبوں سے تعلق رکھنے وا لی شخصیات ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئی ہیں۔ ٹیم میں ڈاکٹر، وکلاء، پولیس اہلکار، تاجر، انڈین نیوی کے افسران، ایکسائز ڈیوٹی کے اہلکار اور فلم ڈائریکٹر شامل ہیں۔ ٹیم کے سینئر رکن ڈاکٹر رہنما کے مطابق یہ تمام سائیکل سوار اگلے ایک ہفتے کے دوران ۹۰۰ کلومیٹر کا دشوار گزار مرحلہ طے کر کے اپنی منزل پر پہنچیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: بچپن کی کہانیاں دنیا تک پہنچانے والی نسرین سکیک عالمی ایوارڈ کے فائنل میں
دشوار گزار راستوں اور گھاٹوں کا کڑا امتحان
یہ قافلہ کلیان سے نکل کر پونے، کراڈ اور رادھانگری گھاٹ کے راستے ساونت واڑی پہنچے گا جس کے بعد گوا اور پھر پھونڈا گھاٹ ہوتے ہوئے کرناٹک کے مشہور سیاحتی مقام ڈانڈیلی میں اختتام پذیر ہوگا۔ مغربی گھاٹ کے پہاڑی راستوں، شدید موڑوں اور گنجان جنگلاتی علاقوں سے گزرتا ہوا یہ طویل سفر سائیکل سواروں کی جسمانی توانائی اور ذہنی استقامت کا سخت امتحان ثابت ہوگا۔ مہم میں شامل سائیکل سوار پرتیک گروارے نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر اس وقت گزشتہ کئی دہائیوں کی بدترین خشک سالی سے نمٹ رہا ہے جس کے باعث ہر باشعور شہری کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کا ہر قطرہ قیمتی ہے لہٰذا اس کا محتاط استعمال اور پانی کے قدرتی ذخائر کا تحفظ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سفر کا مقصد محض کلومیٹر طے کرنا نہیں بلکہ دیہی اور شہری آبادیوں میں پانی اور ماحولیات کے تئیں ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنا ہے۔