Updated: October 22, 2026, 11:09 AM IST
| Gaza
غزہ جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر روزمرہ زندگی، بچوں اور خاندانوں کی مشکلات ریکارڈ کرنے والی نسرین سکیک نے ڈجیٹل کریئیٹر ایوارڈز ۲۰۲۶ء کے جونیئر زمرے میں فائنلسٹ بن کر عالمی توجہ حاصل کی؛ اس کی ایک ویڈیو کو ۳۶؍ ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھے جانے کی اطلاع ہے۔
نسرین سکیک۔ تصویر: سوشل میڈیا
جنگ، نقل مکانی اور تباہی کے درمیان اپنے بچپن کے تجربات کو موبائل کیمرے میں محفوظ کرنے والی فلسطینی کم عمر ڈجیٹل کریئیٹر نسرین سکیک عالمی سطح کے مقابلے کے فائنل میں پہنچ گئی ہے۔ غزہ سے تعلق رکھنے والی ۱۱؍ سالہ نسرین کو ڈجیٹل کریئیٹر ایوارڈز ۲۰۲۶ء کے جونیئر زمرے کے فائنلسٹس میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کی نامزدگی کی خبر سامنے آنے کے بعد اہلِ خانہ کے ساتھ خوشی منانے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، جس میں وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور آبدیدہ ہوگئی۔ نسرین کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں جنگ نے بچوں کی معمول کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا کو محض تفریح یا ذاتی زندگی کی نمائش کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنے گرد و پیش کے حالات دکھانے کا ذریعہ بنایا۔ اس کی ویڈیوز میں غزہ کے لوگوں کی روزمرہ سرگرمیاں، بچوں اور خاندانوں کو درپیش مشکلات، بے یقینی، محرومی اور نامساعد حالات میں زندگی جاری رکھنے کی کوششیں نمایاں ہوتی ہیں۔ اس طرح اس کا مواد ان تجربات کی جھلک پیش کرتا ہے جو جنگ کے دوران خبروں کے اعداد و شمار سے آگے عام لوگوں کی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔
عربی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نسرین خاص طور پر انسٹاگرام سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ویڈیوز شائع کرتی ہے۔ اس کے مواد کو وسیع ناظرین تک رسائی ملی ہے اور ایک ویڈیو کے مشاہدات ۳۶؍ ملین سے تجاوز کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس مقبولیت نے غزہ میں زندگی کے روزمرہ مناظر کو ایسے لوگوں تک پہنچایا جو وہاں کے حالات کو براہِ راست نہیں دیکھ سکتے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار میڈیا رپورٹس میں دی گئی معلومات پر مبنی ہیں۔ نسرین کے فائنل میں پہنچنے کی خبر پر اس کے خاندان کا ردِعمل بھی اس کامیابی کے انسانی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ اہلِ خانہ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں رشتہ دار اسے گھیرے ہوئے نظر آتے ہیں؛ کہیں خوشی، کہیں گلے ملنے اور کہیں آنسوؤں کے مناظر ہیں۔ نسرین خود بھی خبر سن کر جذباتی ہوگئی۔ یہ لمحہ اس کے لیے ایک ذاتی کامیابی کے ساتھ اس کام کی عالمی سطح پر پذیرائی کی علامت ہے جس کے ذریعے وہ غزہ میں زندگی کی کہانیاں ریکارڈ کرتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میٹا پر اسرائیلی بوٹس کی اجتماعی رپورٹنگ کے ذریعے اکاؤنٹس بند کرانے کا الزام
ڈجیٹل کریئیٹر ایوارڈز ۲۰۲۶ء کے مقابلے میں فلسطینی شرکت پہلے بھی نمایاں رہی ہے۔ ستمبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اس عالمی مقابلے میں ۱۱۸؍ ممالک کے مواد تخلیق کرنے والے شریک تھے اور نسرین سکیک کے ساتھ فلسطینی نوجوان قصی ابراہیم عبداللہ نے بھی جونیئر زمرے میں حصہ لیا تھا۔ اس مقابلے کا اختتامی ایوارڈ شو ۱۲؍ دسمبر ۲۰۲۶ء کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونا طے بتایا گیا تھا۔ نسرین کی فائنل تک رسائی ڈجیٹل مواد کی اس صلاحیت کو بھی سامنے لاتی ہے جس کے ذریعے کم عمر تخلیق کار اپنی زندگی کے تجربات کو وسیع تر سامعین تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے لیے یہ کامیابی ایک عالمی اعزاز کے حصول کی جانب اہم پیش رفت ہے، جب کہ اس کے مواد میں غزہ کے شہریوں، بالخصوص بچوں اور خاندانوں کی روزمرہ زندگی کے وہ پہلو دکھائی دیتے ہیں جو جنگ کے دوران معمول کی زندگی کے تصور کو بدل دیتے ہیں۔ مقابلے کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے آنا باقی ہے؛ فی الحال نسرین کا فائنلسٹ بننا ہی اس کی تخلیقی کاوشوں کی نمایاں کامیابی ہے۔