Updated: August 14, 2026, 10:06 PM IST
| New Delhi
ہندوستان ۱۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو آزادی کے۸۰؍ سال مکمل کر رہا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب ملک آزاد ہوا تھا، اس وقت ہندوستانی معیشت آج کے مقابلے میں بالکل مختلف تھی۔ اس دور میں ایک روپے کو ۱۶؍ آنے میں تقسیم کیا جاتا تھا، جبکہ عام ملازمین کی ماہانہ آمدنی چند درجن روپے کے آس پاس ہوتی تھی۔
یوم آزادی۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان۱۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو آزادی کے۸۰؍ سال مکمل کر رہا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب ملک آزاد ہوا تھا، اس وقت ہندوستانی معیشت آج کے مقابلے میں بالکل مختلف تھی۔ اس دور میں ایک روپے کو ۱۶؍ آنے میں تقسیم کیا جاتا تھا، جبکہ عام ملازمین کی ماہانہ آمدنی چند درجن روپے کے آس پاس ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ایکواڈور: فٹبالر ہالینڈ کی تصویر والے ۴۶۹؍ کوکین کے پیکٹ ضبط، خاتون گرفتار
گزشتہ ۸۰؍ برسوں میں نہ صرف ہندوستان کی معیشت اور آمدنی میں بڑا اضافہ ہوا بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء میں دودھ، چاول، گندم، چینی، پیٹرول، سونا، سفر اور سائیکل کی قیمت کیا تھی اور ۲۰۲۶ء میں ان کی قیمت کہاں پہنچ چکی ہے۔
۲۴؍ قیراط سونا ۱۰؍ گرام
۱۹۴۷ء میں قیمت: تقریباً۶۲ء۸۸؍روپے
۲۰۲۶ء میں قیمت: تقریباً۱۵۵۳۰۰؍روپے۔یعنی سونے کی قیمت میں گزشتہ ۸۰؍ برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
دودھ ایک لیٹر
۱۹۴۷ءمیں قیمت: تقریباً۱۲ء۰؍ یعنی ۱۲؍ پیسے
۲۰۲۶ءمیں قیمت: تقریباً۶۶ سے ۶۸؍روپے۔ ۱۹۴۷ء میں دودھ کی قیمت تقریباً ۲؍ آنے فی سیر کے حساب سے بتائی جاتی ہے، جسے موجودہ پیمانے پر تبدیل کرنے کے بعد یہ قیمت سامنے آتی ہے۔
چاول ایک کلو
۱۹۴۷ء میں قیمت:۱۲ء۰ سے ۱۶ء۰؍پیسے
۲۰۲۶ءمیں قیمت:۵۰؍ سے ۶۰؍ روپے ۔چاول، جو ہندوستانی خاندانوں کی بنیادی غذاؤں میں شامل ہے، اس کی قیمت بھی آزادی کے وقت کے مقابلے میں کئی سو گنا بڑھ چکی ہے۔
گندم ۱۰۰؍کلو
۱۹۴۷ء میں تھوک قیمت: تقریباً ۲۰ء۰؍ سے ۰ء۲۴؍ روپے فیکوئنٹل
۲۰۲۶ء میں تھوک قیمت: تقریباً ۲۸۰۰؍ سے ۳۲۰۰؍ فی کوئنٹل ۔ اس عرصے میں گندم کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، اگرچہ اس کا موازنہ کرتے وقت تھوک اور خردہ قیمتوں کا فرق ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
چینی ایک کلو
۱۹۴۷ء میں قیمت: تقریباً۴۰ء۰؍ سے ۴۵ء۰؍ آنا
۲۰۲۶ءمیں قیمت: تقریباً ۴۴؍ سے ۴۸؍ روپے ۔ آزادی کے وقت ایک کلو چینی کی قیمت ایک روپے سے بھی کم تھی، جبکہ آج اس کی قیمت تقریباً ۴۵؍روپے کے آس پاس ہے۔
پیٹرول :ایک لیٹر
۱۹۴۷ء میں قیمت: ۲۷ء۰؍ پیسے
۲۰۲۶ء میں قیمت: تقریباً۹۴؍ سے ۱۱۱؍ روپے۔ پیٹرول کی موجودہ قیمت ریاستی ٹیکس اور مقامی محصولات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ آزادی کے وقت پٹرول کی قیمت موجودہ قیمت کے مقابلے میں انتہائی کم تھی۔
یہ بھی پڑھئے:کیا آپ جانتے ہیں؟ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ریلیز ہونے والی پہلی فلم کون سی تھی؟
ٹرین کا کرایہ
۱۹۴۷ء میں: دہلی سے کلکتہ/بمبئی فرسٹ کلاس سفر تقریباً ۱۲۳؍روپے
۲۰۲۶ءمیں: اے سیفرسٹ کلاس کے لیے تقریباً ۲۵۰۰؍ سے ۴۸۰۰؍ روپے۔ ریل سفر بھی وقت کے ساتھ مہنگا ہوا ہے، تاہم آج مسافروں کو مختلف کلاسیز اور سہولیات کے متعدد آپشن دستیاب ہیں۔
دہلی سے ممبئی ہوائی سفر
۱۹۴۷ء میں: تقریباً ۱۴۰؍ روپے فی مسافر
۲۰۲۶ء میں: تقریباً ۵۵۰۰؍ سے ۸۰۰۰؍ روپے ۔۱۹۴۷ء میں فضائی سفر ایک محدود اور نسبتاً مہنگی سہولت تھی، جبکہ آج ہندوستان میں ہوائی سفر عام مسافروں کے لیے بھی زیادہ قابل رسائی ہو چکا ہے۔
سائیکل
۱۹۴۷ء میں: تقریباً ۲۰؍ سے ۲۵؍ روپے
۲۰۲۶ء میں: تقریباً ۴۵۰۰؍ سے ۶۰۰۰؍ روپے ۔آزادی کے وقت ایک عام سائیکل کی قیمت تقریباً ۲۰؍ سے۲۵؍ روپے تھی، جبکہ آج ایک بنیادی کمیوٹر سائیکل کی قیمت ہزاروں روپے میں ہے۔
۱۹۴۷ء میں عام آدمی کی آمدنی کتنی تھی؟
صرف قیمتوں کا موازنہ مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس وقت لوگوں کی آمدنی بھی بہت کم تھی۔ ابتدائی سرکاری سروے کے مطابق ۱۹۴۷ء میں ایک نچلے درجے کے کلرک یا سرکاری ملازم کی ماہانہ تنخواہ تقریباً ۳۰؍ سے ۵۰؍ روپے کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس حساب سے اگر ایک سائیکل کی قیمت ۲۰؍ تھی تو وہ ایک ملازم کی تقریباً آدھی ماہانہ آمدنی کے برابر ہو سکتی تھی۔ یعنی اگرچہ آج کئی اشیا کی قیمتیں ۱۹۴۷ء کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ ہیں، لیکن لوگوں کی آمدنی، پیداوار، معیشت اور معیارِ زندگی میں بھی اسی دوران بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔
۱۹۴۷ء میں روپے کا نظام مختلف تھا
ایک اہم بات یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان میں آج والا اعشاری نظام رائج نہیں تھا۔ اعشاری کرنسی یکم اپریل ۱۹۵۷ء سے نافذ ہوئی۔ اس سے پہلے: ایک روپیہ = ۱۶؍ آنے ۔ ایک آنا = ۴؍پرانے پیسے (Pice) ۔اس لیے ۱۹۴۷ء کی قیمتوں کو آج کی کرنسی سے براہِ راست ملاتے وقت پرانی کرنسی کی اکائیوں کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔
۸۰؍ سال کا فرق
۱۹۴۷ء سے۲۰۲۶ء تک ہندوستان نے زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، آمدنی اور صارفین کی قوتِ خرید کے شعبوں میں بہت بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔ دودھ، چاول، پیٹرول اور سونے جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ اس معاشی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔