اقوام متحدہ کے مطابق سب سے زیادہ متاثر دریائی نظام کے اطراف یہ ملبہ جمع ہوا ہے جس سے راحت اور بچائو کام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 8:31 AM IST | Kathmandu
اقوام متحدہ کے مطابق سب سے زیادہ متاثر دریائی نظام کے اطراف یہ ملبہ جمع ہوا ہے جس سے راحت اور بچائو کام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے جہاں کئی زندگیوں کو نگل لیا وہیں یہ اپنے پیچھے تباہی اور غم کی داستانوں کے ساتھ ساتھ ۲۲؍ لاکھ ٹن سے زائد ملبہ بھی چھوڑ گیا ہے جس سے نمٹنا راحت اور بچائو کارکنوں کیلئے کسی پہاڑ کے سر کرنے سے کم نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے اچانک سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جبکہ ابتدائی جائزوں کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ دریائی نظام کے اطراف ۲۲؍ لاکھ ٹن سے زائد ملبہ جمع ہوگیا ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام نے امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے اچانک سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں ۔
نیپالی حکام کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں، جبکہ تقریباً ۴؍ ہزار افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ ابتدائی جائزے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ دریائی نظام کے اطراف کم از کم ۲۲؍ لاکھ ٹن ملبہ جمع ہوا ہے۔ سیٹیلائٹ سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر کئےگئے جائزے میں ۲۳؍سو سے زائد تباہ شدہ عمارتوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جن سے تقریباً ۵؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار ۲۰۰؍ٹن تعمیراتی ملبہ جمع ہونے کا اندازہ ہے۔سیلاب سے نیپال کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ۱۱؍ پن بجلی گھر اور ایک شمسی توانائی کا پلانٹ سیلاب کی زد میں آکر بند ہوگئے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً۴۳۱؍ میگاواٹ تھی۔
ملبہ میں کیا کیا ہے ؟
سیلابی پانی کا جو ریلا آیا تھا اس کی زد میں مکانات ، اسپتال ، اسکول ،دفاتر ، پہاڑ ، کھیت کھلیان یہاں تک کہ تعمیراتی سازو سامان بھی آگیا تھا ۔ اس ملبے میں بتایا جارہا ہے کہ عمارتوں کا سیکڑوں ٹن ملبہ ہے جس میں سیمنٹ ،پتھر ، ریت ، کنکریٹ اورلوہا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مکانات کے مہندم ہونے یا پانی میں بہنے کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے جو ملبہ بنا ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ پورا ملبہ ۲۲؍ لاکھ ٹن سے زائد ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ یہ ندی کنارے کے علاقوں میں جم گیا ہے۔ اسے ہٹانا اور راحتی کام کرنا بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔ اس کے لئے نیپال کو بڑی بڑی مشینیں اور جے سی بی درکار ہیں۔ اس کام کیلئے اس نے اقوام متحدہ کے اداروں سے رابطہ کیا ہے۔
سیلاب سے اب تک کے نقصان کا تخمینہ
سیلابی پانی کی وجہ سے نیپال کے پہاڑی علاقوں میں زیر تعمیر ۱۵؍پن بجلی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد ملک کے توانائی نظام میں مزید ۴۷۰؍ میگاواٹ بجلی شامل ہونے کی توقع تھی۔اس وقت امدادی سرگرمیوں میں سب سے بڑا مسئلہ متاثرہ علاقوں تک رسائی کا ہے کیوں کہ ۴۰؍ سے زائد پل سیلاب میں بہہ گئے ہیں، جبکہ مرکزی شاہراہ کے کئی حصے بھی بند ہوگئے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادی کو ضروری اشیا اور امدادی سامان پہنچانے کے لئے فوج کے ہیلی کاپٹروں پر انحصار کرنا پڑرہا ہے جو تعداد میں کم ہیں۔ گنجان آباد عارضی پناہ گاہیں، آلودہ پانی اور تباہ شدہ طبی مراکز بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔