ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں وجے شاہ کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا جواز پیش کرنے کیلئے اپنا جواب تیار کرلیا ، اس کی ریاستی گورنر نے بھی تائید کی ہے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 8:43 AM IST | Agency | Bhopal
ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں وجے شاہ کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا جواز پیش کرنے کیلئے اپنا جواب تیار کرلیا ، اس کی ریاستی گورنر نے بھی تائید کی ہے۔
آپریشن سیندور میں اہم کردار ادا کرنے والی ہندوستان فوج کی کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف مدھیہ پردیش کے کابینی وزیر وجے شاہ کے متنازع بیان پر سپریم کورٹ نے بھی سخت اعتراض کیا تھا اور کارروائی کی ہدایت دی تھی لیکن اب اس معاملے میں تازہ اور بڑی اپ ڈیٹ یہ ہے کہ ایم پی کی موہن یادو حکومت نے وجے شاہ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی ان کے خلاف اب کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ اس تعلق سے سپریم کورٹ کو مطلع کرنے کےلئے ایم پی حکومت نے تیار ی کرلی ہے۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت کی اس تجویز کی ریاست کے گورنر نے بھی تائید کردی ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنے فیصلے کی وضاحت کیلئے پانچ نکاتی جواب تیار کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ بتائی گئی ہے کہ وزیر کے خلاف ابھی تک کسی نے باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی کے لئے مطلوبہ طریقۂ کار کے تحت کسی باقاعدہ شکایت کا موجود ہونا ضروری ہے۔ریاستی حکومت نے اپنے پانچ نکاتی جواب میں بنیادی طور پر قانونی اور طریقۂ کار سے متعلق نکات کو بنیاد بنایا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ کسی فرد کی جانب سے باقاعدہ شکایت سامنے نہیں آئی، اس لیے وزیر کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے کی بنیاد موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ وجے شاہ کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے معافی مانگ لی تھی لیکن ان کیخلاف غصہ کم نہیں ہوا ہے۔