گھر سے ٹفن سپلائی کرنے والوں کا رجسٹریشن بھی ضروری۔ تہواروں سے قبل فوڈ سیفٹی افسر پرساد، افطار، لنگر اور بھنڈارا کے مقام پر جاکر جائزہ لیں گے، شادیوں کے کھانے بھی متاثرہوں گے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 8:52 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
گھر سے ٹفن سپلائی کرنے والوں کا رجسٹریشن بھی ضروری۔ تہواروں سے قبل فوڈ سیفٹی افسر پرساد، افطار، لنگر اور بھنڈارا کے مقام پر جاکر جائزہ لیں گے، شادیوں کے کھانے بھی متاثرہوں گے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے تہواروں کے دوران عوام کو کھانے پینے کی ملاوٹی اور نقلی اشیاء سے محفوظ رکھنے کیلئے پورے سال کیلئے حکم جاری کردیا ہے کہ تہواروں اور مذہبی تقریبات وغیرہ میں تقسیم کئے جانے والے کھانوں کے انتظامات کی پیشگی جانچ کروانا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی صرف رجسٹرڈ باورچیوں سے ہی تہواروں میں کھانا بنوایا جائے۔ ایف ڈی اے نے تمام باورچیوں کیلئے رجسٹریشن کروانا لازمی قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف تہواروں بلکہ شادی بیاہ میں پکائے جانے والے کھانے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس حکم میں گھروں سے ٹفن یا کھانے پینے کا کاروبار کرنے والوں کو بھی رجسٹریشن کروانا ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔
یہ حکم جاری کرنے کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ عام طور پر ہر تہوار، عرس، جلوس یا دیگر تقریبات سے قبل اس طرح کا حکم جاری کیا جاتا رہا ہے لیکن اکثر اوقات بروقت حکم جاری اور ان پر عملدرآمد بھی نہیں ہوپاتا۔ اس وجہ سے یہ حکم جاری کیا گیا ہے جو تمام سال نافذ رہے گا۔
ایف ڈی اے کے سربراہ تکارام منڈے نے جمعرات کو باندرہ کرلا کمپلیکس میں واقع اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تہواروں کو ۳؍ زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا زمرہ قومی سطح کے تہوار ہیں جن میں گنیش اتسو، نوراتری، دیوالی، عیدالفطر، عید الاضحی، کرسمس اور نیا سال وغیرہ ۔ تہواروں میں پرساد، افطار، لنگر اور بھنڈارا میں کھانوں کی تقسیم شامل ہیں جن میں جانچ کے ۴؍ مراحل ہوں گے۔ دوسرے مرحلے میں مکر سکرانتی، مہاشیوراتری، ہولی، رنگ پنچمی، گڈی پاڑوا، دہی ہنڈی، دسہرہ، گرو نانک جینتی وغیرہ شامل ہیں۔ تیسرے زمرے میں مقامی سطح کے تہوار، میلے اور جلوس وغیرہ شامل ہیں۔
چار مراحل میں ۱۵؍ سے ۲۱؍ دن قبل جانچ شروع ہوجائے گی جن میں ایسے مقامات کی شناخت کی جائے گی جہاں غیر معیاری اور غیر منظم طریقہ سے کھانوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جن باورچیوں یا دیگر اداروں سے کھانے بنوائے جانے ہیں، ان کے تعلق سے معلومات حاصل کی جائیں گی۔ یہاں سے کھانوں کے پیشگی نمونے حاصل کرنے اور لیباریٹریوں میں ان کی جانچ کروانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔
۴؍مراحل کے دوران کچھ اس طرح جانچ کی جائے گی
پہلے مرحلے کے تحت فلائنگ اسکواڈ رات کو اور علی الصباح ناکہ بندیوں کے ذریعہ گاڑیوں میں لے جائے جانے والے کھانوں کی جانچ کریں گے۔ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء مثلاً ماوا وغیرہ اور گوشت محفوظ رکھنے کے مناسب انتظامات ہیں یا نہیں یہ دیکھا جائے گا۔ باورچیوں کو رجسٹرڈ سپلائروں سے کھانے کی اشیاء خریدنے اور خریداری کا ریکارڈ ایک سال تک محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کھانے کے کاروبار کرنے والوں اور باورچیوں کو ایف ڈی اے کے ذریعہ دیا جانے والا فارم پُر کرنا ہوگا جن میں ان کے رجسٹریشن نمبر اور کاروبار سے متعلق دیگر اہم تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی۔
دوسرا مرحلہ تہوار سے ۱۴؍ روز قبل شروع ہوگا جس میں کھانا پکانے کی جگہ، اشیاء رکھنے اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء کے نمونے حاصل کرکے ان کی پیشگی جانچ بھی کرائی جائے گی۔
تیسرے مرحلے میں تہوار والے دن بھی ایف ڈی اے افسران مٹھائی اور کھانے پینے کی دکانوں وغیرہ پر جاکر دیکھیں گے کہ حفظان صحت کا خیال رکھا جارہا ہے یا نہیں۔
چوتھامرحلہ تہوار کے ۳۰؍ روزبعد تک جاری رہے گا جس میں جانچ کی رپورٹ حاصل کرنا، تجزیہ کرنا اور رپورٹ تیار کرکے قانونی کارروائی کرنا شامل ہے۔