Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج سے کمرشیل سلنڈروں کی ۲۰؍ فیصد سپلائی شروع ، مٹی کے تیل کی تقسیم کابھی فیصلہ

Updated: March 23, 2026, 11:48 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

اتوار کو ریاست میں ہوٹلوں، ڈھابوں، ریستورانوں کے ساتھ ساتھ انڈسٹریل کینٹین اور فوڈ پروسیسنگ/ڈیری کے کاروبار کیلئے راحت کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق ۲۰؍ فیصد اضافی کمرشیل ایل پی جی فراہم کئے جائیں گے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

خلیجی ممالک میں جنگ کے سبب ہندوستان میں بھی تیل اور رسوئی گیس کی سپلائی متاثر ہورہی ہے اور حکومت نے ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود کمرشیل گیس سلنڈروں کی سپلائی بند کر دی تھی لیکن اتوار کو ریاست میں ہوٹلوں، ڈھابوں، ریستورانوں کے ساتھ ساتھ انڈسٹریل کینٹین اور فوڈ پروسیسنگ/ڈیری کے کاروبار کیلئے راحت کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق ۲۰؍ فیصد اضافی کمرشیل ایل پی جی فراہم کئے جائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: کشیلی فرنیچر مارکیٹ میں آتشزدگی ،۱۷؍ دکانیں خاکستر، لاکھوں کا نقصان

شہری رسد و خوراک اور صارفین کے تحفظ کےریاستی وزیر چھگن بھجبل نے یہ اطلاع دی۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ۲۱؍مارچ ۲۰۲۶ءکو مرکزی حکومت کی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق ریاست کو پہلے۳۰؍ فیصد الاٹ کیا گیا تھا۔ اب۲۳؍ مارچ سے اگلے احکامات تک مزید۲۰؍ فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور گیس کی کل فراہمی بحران سے پہلے کی سطح کے۵۰؍فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس اضافی۲۰؍ فیصد میں ہوٹلوں، ڈھابوں، ریستورانوں، انڈسٹریل کینٹین، فوڈ پروسیسنگ اور ڈیری صنعتوں کو ترجیح طور پر کمرشیل گیس سلنڈرسپلائی کئے جائیں گے نیز سبسڈی والی کینٹین، کمیونٹی کچن اور تارکین وطن مزدوروں کوریاستی حکومت یا مقامی خود حکومتی اداروں کے ذریعے چلائی جانے والی اسکیموں سے بھی فائدے حاصل ہوں گے۔ ریاستی وزیر چھگن بھجبل نے کہا کہ اس فیصلے سے ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان کو بڑی راحت ملے گی جو کمرشیل ایل پی جی کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم گیس حاصل کرنے کیلئے متعلقہ مالکان کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی )کے ساتھ رجسٹر کرنے اورپی این جی کیلئے درخواست دینے کی ضرورت ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ پرائیویٹ ٹرسٹ آر ٹی آئی کا جواب دینے کا پابند نہیں ہے‘‘

چھگن بھجبل کے مطابق اس دوران ریاست میں مٹی کے تیل کی تقسیم کیلئے بھی اہم فیصلے لئے گئے ہیں۔ زیر التواء لائسنس کو تجدید سمجھا جائے گا اور کوئی فیس نہیں لی جائے گی نیز ورثاء کے ناموں پر لائسنس فوری طور پر منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ۲۰؍ مارچ کو ایک سرکاری خط کے ذریعے ریاست میں ریٹیل، ہاکرس، نیم تھوک اور ہول سیل مٹی کے تیل کے لائسنس کی منظوری، تجدید اور منتقلی کے سلسلے میں کارروائی کریں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK