Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ پرائیویٹ ٹرسٹ آر ٹی آئی کا جواب دینے کا پابند نہیں ہے‘‘

Updated: March 20, 2026, 12:36 PM IST | Mumbai

ٹریبونل کے حکم کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا کہ ’’ آر ٹی آئی قانون پرائیویٹ ٹرسٹ پر عائد نہیں ہوتا۔‘‘

Important directive of the Bombay High Court (file photo)
بامبے ہائی کورٹ کی اہم ہدایت ( فائل فوٹو)

بامبے ہائی کورٹ  نے آر ٹی آئی سے متعلق ایک فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی پرائیویٹ ٹرسٹ آر ٹی آئی ( حق معلومات ) کے تحت جواب دینے کا مکلف نہیں ہے۔ یہ پابندی صرف سرکاری اداروں یا محکموں کی ہے۔ دراصل ایک پرائیویٹ ٹرسٹ نے ایک شخص کے ذریعہ آر ٹی آئی قواعد کے تحت مانگی گئی ٹرسٹ کی سرگرمیوں اور مالی تعاون سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا تھا جس پر اس شخص نے ٹریبونل میں اپیل کی تھی۔ ٹریبونل نے ٹرسٹ کو تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا لیکن ٹرسٹ نے تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے ٹریبونل کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بی ایم سی نے عدالت کی ہدایت کردہ رقم ور لی اسپورٹس کلب کو ادا کردی

  دونوں فریق کی جرح سننے اور ٹربیونل کے فیصلہ کا جائزہ لینے کے بعدہائی کورٹ نے ٹربیونل کے فیصلہ کو خارج کرتے ہوئے کہا کسی بھی پرائیویٹ ادارے پر آر ٹی آئی قواعد عائد نہیں ہوتے۔  بامبے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے جسٹس امیت بورکر کے روبروایک پرائیویٹ ٹرسٹ نے داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ کورٹ کو بتایاکہ ایک شخص نے ٹرسٹ کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ٹرسٹ کی سرگرمیوں اور مالی تعاؤن سے متعلق تفصیلات طلب کی تھی جو نہیں دی گئی ۔ اس پر اس شخص نے ٹربیونل سے  رجوع کیا  جہاں اس کے حق میں فیصلہ سنایا گیا اور ہمیں تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ ہم اس شخص کو تفصیلات فراہم کرنے کے پابند نہیں ہیں ۔ وہیں کورٹ نےٹرسٹ کی فراہم کی گئی تفصیلات اور اس ضمن میں ٹربیونل کے سنائے گئے فیصلہ کا جائزہ لینے کےبعد کہا کہ ’’ کوئی بھی پرائیویٹ ادارہ جو سرکاری ادارے کے ساتھ منسلک نہ ہو یا ٹرسٹ عوامی ملکیت نہ ہو اس سے نہ تو آر ٹی آئی قواعد کے مطابق تفصیلات طلب کی جاسکتی ہے اور نہ ہی پرائیویٹ ٹرسٹ آر ٹی آئی کے ذریعہ مانگی گئی تفصیلات فراہم کرنے کا پابند ہے ۔‘‘ساتھ ہی کورٹ نے ٹربیونل کے فیصلہ کو بھی خارج کر دیا ہے۔یاد رہے کہ حق معلومات قانون ۲۰۰۵ء میں متعارف کروایا تھا جس کی رو سے عام آدمی کو سرکاری اداروں سے تحریری طور پر سوال پوچھنے کا اختیار حاصل ہو ا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK