Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰؍ ہزار جوتے چپل، ایمسٹرڈیم میں غزہ کے بچوں کو یاد کیا گیا

Updated: April 15, 2026, 10:29 AM IST | Agency | Amsterdam

نیدر لینڈس کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم کے وسط میں واقع مشہور ڈیم اسکوائر میں اتوار کو اہل غزہ کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے ایک بڑے احتجاج کا انعقاد کیا گیا، جس میں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے فلسطینی بچوں اور صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

In Amsterdam`s Dam Square, Children`s Slippers Were Placed In Memory Of The Martyred Children Of Gaza.Photo:INN
ایمسٹر ڈیم کے ’’ڈیم اسکوائر‘‘ میں اس طرح بچوں کی چپلیں رکھ کر غزہ کے شہید بچوں کو یاد کیاگیا۔ تصویر:آئی این این
نیدر لینڈس  کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم کے وسط میں واقع مشہور ڈیم اسکوائر میں اتوار کو اہل غزہ کے ساتھ یکجہتی  کے اظہار کیلئے ایک بڑے احتجاج کا  انعقاد کیا گیا، جس میں غزہ  میں  اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے فلسطینی بچوں اور صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس پروگرام میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں پر  اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیاگیا۔ 
’’پلانٹ این اولیو ٹری‘‘ (زیتون کا ایک پودہ لگائیں) فاؤنڈیشن نے اس علامتی مظاہرے کا اہتمام کیا  جس میں مرکزی چوک کو ایک کھلی نمائش میں تبدیل کر دیا گیا جو غزہ میں انسانی المیے کی شدت کو ظاہر کر رہی تھی۔ یہاں بچوں کے ہزاروں ،ا یک اندازہ کے مطابق  ۲۰؍ ہزار جوتے رکھے گئے ۔ ان چھوٹے چھوٹے پیارے پیارے جوتوں  کے ذریعے غزہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی نمائندگی مقصود تھی جس نے  مظاہرہ  میں  موجود افراد کو جذباتی کر دیا اور کئی خواتین کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس کے ساتھ ہی  مختلف اسٹینڈس  پر ان صحافیوں کی تصاویر اور نام آویزاں کئے  گئے جنہیں  اسرائیل نے جنگ میں قتل کیا۔
 تقریب میں جذباتی مناظر بھی دیکھے گئے نیدرلینڈس کے فنکاروں، اداکاروں اور پروڈیوسرس نے باری باری شہید بچوں کے نام اور عمریں پڑھیں۔ ہر نام کے اعلان کے ساتھ دردناک خاموشی چھا جاتی تھی  تاکہ محض اعداد و شمار کے بجائے ہر جان کو ایک مکمل انسانی کہانی کے طور پر محسوس کیا جا سکے۔ 
 
 
’پلانٹ این اولیو ٹری‘ فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر ایسٹر فان ڈر موسٹ نے کہا کہ یہ تقریب غزہ کے بچوں سے اظہارِ وفاداری کے طور پر سولہویں مرتبہ اور شہید صحافیوں کے اعزاز میں چوتھی بار منعقد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیدرلینڈس میں عوامی تحریک کا مقصد فلسطینی عوام کے خلاف جاری منظم تباہی اور شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانے پر عالمی خاموشی کو توڑنا ہے۔
 
 
انہوں نے بتایا کہ۲۰؍ ہزار شہید بچوں کے سرکاری اعداد و شمار اصل تباہی کی مکمل عکاسی نہیں کرتے کیونکہ ہزاروں افراد ملبے تلے  دب کر لاپتہ  ہوگئے۔ انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں قید بچوں کی حالت زار کی طرف بھی توجہ دلائی، جہاں وہ انسانی حقوق اور عالمی نگرانی سے محروم سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے فلسطینی خاندانوں کا دکھ مزید بڑھ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK