کل بل پیش ہوگا، جنوبی ہند میں بے چینی، ڈی ایم کے نے بڑے پیمانے پرتحریک کی دھمکی دی۔
ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن-تصویر:آئی این این
مودی حکومت نے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ۳۳؍ فیصد خواتین ریزرویشن کی آڑ میں لوک سبھا کی نشستیں موجودہ ۵۴۳؍ سے سے بڑھا کر ۸۵۰؍ تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کی تصدیق منگل کو اس وقت ہوگئی جب ۱۶؍ اپریل سے شروع ہونےوالے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں پیش کی جانے والی آئینی ترمیم کا مسودہ عام کیاگیا۔ ۲۰۲۹ء سے خواتین کیلئے ۳۳؍ فیصدنشستیں مختص کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کی تجویز میں لوک سبھا کی موجودہ نشستوں میں اضافے کی حتمی تعداد واضح نہیں کی گئی تاہم یہ کہا گیا ہے کہ کل تعداد’’۸۵۰؍ سےزیادہ نہیں‘‘ ہونی چاہیے۔ بل میں وضاحت کی گئی ہے کہ لوک سبھا میں’’۸۱۵؍تک اراکین‘‘ ریاستوں سے منتخب ہوں گے اور’’۳۵؍تک‘‘ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی نمائندگی کریں گے۔ حتمی تعداد حد بندی کے عمل کے ذریعہ طے ہوگی۔
اس طرح یہ واضح ہوگیا ہے کہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر ۸۵۰؍ تک کی جاسکتی ہے۔اس اعلان سے جنوبی ہند میں بے چینی محسوس کی جارہی ہےکیوں کہ آبادی پر قابو پانے کے رہنما خطوط پر عمل کرنے کی وجہ سے وہاں آبادی میں اضافے کا تناسب شمالی ہند سے کم ہےاس لئے اندیشہ ہے کہ وہاں سے لوک سبھا کی نشستیں کم ہو جائیں گی اور اس طرح مرکزی حکومت پر ان کا اثر مزید گھٹ جائےگا۔ اسی بنا پر تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے مذکورہ مسودہ منظر عام پر آنے کے بعد ہی خبر دار کیا ہےکہ’’ اگر لوک سبھا کی نشستوں کی مجوزہ حد بندی میں ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو ریاست میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
انہوں نےمنگل کو سوشل میڈیا پر ایک سخت پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’اگر کوئی ایسا قدم اٹھایا گیا جو تمل ناڈو کو نقصان پہنچائے یا شمالی ہند کی ریاستوں کی سیاسی طاقت کو غیر متناسب طور پر بڑھائے، تو ہم تمل ناڈو میں خاموش نہیں رہیں گے۔ تمل ناڈو اٹھ کھڑا ہوگا اور بھرپور طریقے سے اپنا احتجاج درج کرے گا۔‘‘ اپنے ویڈیو پیغام میں اسٹالن نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا ریاستی حکومت سے صلاح و مشورہ کئے بغیر من مانے اور یکطرفہ طور پر اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’حد بندی کو جلد بازی میں نافذ کرنے کی یہ کوشش بی جے پی حکومت کی جانب سے جمہوریت پر کھلا حملہ ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ ریاستوں کے حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔‘‘