Inquilab Logo

۲۰۲۳ء اب تک کا گرم ترین سال ہوگا، انتونیو غطریس کا فوری اقدامات کا مشورہ

Updated: September 07, 2023, 7:31 PM IST | Bresles

گزشتہ ۳؍ ماہ میں گرم لہروں ، خشک سالی اور جنگل کی آگ نے دنیا کو بڑے پیمانےپر متاثر کیا ہےجس کے انسانی زندگی پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، یورپی یونین کے موسمیاتی مانیٹر کے مطابق ۲۰۲۳ء کے انسانی تاریخ کے گرم ترین سال ہونے کا امکان ہے، اقوام متحدہ کےجنرل سیکریٹری انتونیو غطریس نے تشویس ظاہر کی اور کہا کہ اب بھی وقت ہے ماحولیاتی بحران کوبڑھنے سے روکا جا سکتا ہے، سائنسدانوں نے سخت ردعمل کا اظہارکیا

Forest fires have affected the world on a large scale over the years. Photo: INN
گزشتہ برسوں میں جنگل کی آگ نے دنیا کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

یورپی یونین کے موسمیاتی مانیٹر کے مطابق ۲۰۲۳ء کے انسانی تاریخ کے گرم ترین سال ہونے کا امکان ہے ۔ شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کے دوران اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا گیا ۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۳؍ ماہ کے دوران گرم لہر، خشک سالی اور جنگل کی آگ نے براعظم ایشیا، افریقہ ، یورپ اور شمالی امریکہ کو بڑےپیمانے پر متاثر کیا ہے جس کے معیشت، ماحولیاتی نظام اور انسانی صحت پر شدید اثرات مرتب ہوئےہیں ۔یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جون، جولائی اور اگست میں اوسط درجہ حرارت ۱۶ء۷۷؍ ڈگری سیلسیس تھاجو ۲۰۱۹ء کے درجہ حرارت ۱۶ء۴۸؍ ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہے۔ کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی ڈپٹی ڈائریکٹر سمانتھا برجیس نے اس ضمن میں کہا ہے کہ گزشتہ۳؍ ماہ تقریباً لاکھ۲۰؍ ہزار برس میں سب سے زیادہ گرم تھے جس کے مطابق یہ انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ گرم ترین دن تھے۔ امسال جولائی کے علاوہ تمام مہینے گرم ترین تھے جبکہ اب تک اگست سب سے زیادہ گرم ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو غطریس کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن نتائج کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی نظام تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہا ہےاور اس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے فوری کارروائی ضروری ہے۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے مطابق سخت گرم لہریں فضائی آلودگی کو نقصان پہنچا رہی ہیں جس کے نتیجے میں انسانی عمر کم ہورہی ہے اور دیگر جانداروں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ڈبلیو ایم او کے سربراہ پیٹری ٹالاس نے واضح کیا کہ گرمی کی لہریں ہوا کے معیار کو خراب کرتی ہیں جس سے انسانی صحت، ماحولیاتی نظام، کاشتکاری اور روزمرہ کے معمولات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سمندروں کا گرم درجہ حرارت گرمی کے موسم میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ شمالی بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم میں بھی گرمی کی لہریں ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہورہی ہیں۔سمانتھا برجیس کا کہنا ہے کہ سطح سمندر پر شدید گرم لہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ہے کہ۲۰۲۳ء اب تک کا گرم ترین سال ہوگا۔ شمالی نصف کرہ میں موسم سرما آنے پر یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ۲۰۲۳ء انسانی تاریخ کا گرم ترین سال ہو گا۔ 
سائنسدانوں کا یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی رپورٹ پر سخت ردعمل 
یونیورسٹی کالج لندن میں موسمیات کے پروفیسر مارک مسلن نے کہا ہے کہ۲۰۲۳ء وہ سال ہے جب موسمیاتی ریکارڈ نہ صرف ٹوٹے ہیں بلکہ توڑ دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمی واقعات اب عام ہوگئے ہیں اور ہر سال بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی رہنماؤں کیلئے ’ویک اب کال‘ ہے۔ علاوہ ازیں امپیریل کالج لندن کے موسمیاتی سائنسداں فریڈریک اوٹو کے مطابق ایندھن کے جلانے کو بند نہ کرنے کے سبب گلوبل وارمنگ جاری ہے۔
خیال رہے کہ۲۰۱۵ء کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو۵ء۱ ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا۔ سائنسدانوں کے ذریعے عرصے سے انتباہ دیاجا رہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچنے کیلئے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو۱ء۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا ضروری ہے۔ 
کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی رپورٹ کے نتائج کمپیوٹر سے تیار کردہ تجزیوں کی بنیاد پر تھے جس میں پوری دنیا کے سیٹلائٹس، بحری جہازوں، ہوائی جہازوں اور موسمی اسٹیشنز سے جمع کئے گئے اربوں پیمائش کے وسیع ڈیٹاسیٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔ 
اب بھی دنیا کو بدترین تباہی سے بچایا جا سکتا ہے: انتونیوغطریس 
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوغطریس نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تباہی شروع ہو گئی ہے۔ سائنسداں طویل عرصے سے فوسل ایندھن کے خطرات سے متنبہ کر رہے ہیں اور اب موسمیاتی واقعات سے دنیا کا ہر گوشہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ زمین شدید گرمی کے دور سے گزر رہی ہے۔حالیہ موسم گرما اس وقت تک کا گرم ترین موسم گرما تھا۔ موسمیاتی تباہی کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ اس تعلق سے مزیدکاروائیاں ضروری ہیں۔ ملکی رہنماوں کو ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے متحرک ہونا چاہئے۔ ابھی وقت ہے ماحولیاتی بحران کو بدترین شکل اختیار کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اب وقت کو ضائع نہیں کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK