وکھرولی میں ایک ہی گھر کے ۱۲؍افراد میں سے محض والد کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ بیٹے کی میپنگ درست قرار دی گئی۔ ان کےمطابق یہ الیکشن عملہ کی کھلی دھاندلی ہے۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 2:16 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Vikhroli
وکھرولی میں ایک ہی گھر کے ۱۲؍افراد میں سے محض والد کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ بیٹے کی میپنگ درست قرار دی گئی۔ ان کےمطابق یہ الیکشن عملہ کی کھلی دھاندلی ہے۔
ایس آئی آر میں نوٹس ملنے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ غیر ضروری طور پر کاغذات اکٹھا کرنے کی مشکلات سے دوچار ہیں۔
وکھرولی ٹیگور نگر میں رہنے والے وارث علی شیخ نے نمائندو انقلاب کو بتایا کہ ان کے خاندان کے۱۲؍ افراد میں سے محض ان کے نام کے تعلق سے تضاد پائے جانے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ ایسے میں ان کی ناراضگی یہ ہے کہ آخر جب وہ اپنے اسی نام پر پہلے سے ووٹ دیتے چلے آئے ہیں اور ۱۹۹۴ء کی فہرست میں بھی نام موجود ہے، سب کی میپنگ والد اشرف علی شیخ سے کی گئی ہے تو اب۱۲؍ میں سے ان کے ہی نام میں غلطی کہاں سے اور کس طرح آگئی؟
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں نے بی ایل او سے جب وہ سارے کاغذات مانگے جو ایس آئی آر کے فارم کے ساتھ جمع کرائے تھے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آخر غلطی یا کمی کہاں رہ گئی ہے یا پھر یہ کہ یہ الیکشن عملہ کی نااہلی اور کھلی دھاندلی ہے کہ ایک خاندان میں محض ایک ہی شخص کے نام میں صحیح میپنگ کیوں نہیں ہوئی تو انہوں نے ادھر ادھر کی بات شروع کردی اور کل ملنے کا وعدہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: صومالیہ کسی بھی صورت میں اسرائیلی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا: صدر
وارث علی شیخ کے مطابق میرے بیٹے تنویر علی کی میپنگ بھی صحیح ہوئی مگر مضحکہ خیز یہ ہے کہ میری نہیں ہوئی اور نوٹس دیا گیا ہے، اس لئے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا مقصد صرف شہریوں کو پریشان کرنا ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔
مالونی میں مقیم عبدالغفار شیخ نے بتایا کہ ان کے بھائی، والدہ اور گھر دیگر افراد کی میپنگ درست قرار دی گئی مگر صرف ان کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جبکہ پہلے یہی نام پتہ اور ولدیت تھی ، حتی کہ ان کے چھوٹے بھائی کی میپنگ بھی درست بتائی گئی۔ جب انہوں نے اپنے بی ایل او سے رابطہ قائم کیا تو اس نے بتایا کہ ابھی ہم سب خود پریشان ہیں، ہماری میٹنگ ہونے والی ہے۔ ہم لوگ وہی کررہے ہیں جو ہم کو آدیش دیا جارہا ہے۔