• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۳۰ء تک گرین انرجی کے لیے ۲۲۰؍ ارب ڈالر کی ضرورت، سرمایہ کاری بڑھنے کی امید

Updated: October 28, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi

ملک میں گرین انرجی (سبز توانائی) کو مزید فروغ دینے کے لیے آئندہ چار سالوں میں اس شعبے کو ۲۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والی انڈیا رینیوایبل انرجی (انڈیا آر ای) کانفرنس اور نمائش ۲۰۲۶ء سے اس کی رفتار مزید بڑھے گی۔

Green Energy.Photo:INN
سبزتوانائی۔ تصویر:آئی این این

ملک میں گرین انرجی (سبز توانائی) کو مزید فروغ دینے کے لیے آئندہ چار سالوں میں اس شعبے کو  ۲۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والی انڈیا رینیوایبل انرجی (انڈیا آر ای) کانفرنس اور نمائش ۲۰۲۶ء سے اس کی رفتار مزید بڑھے گی۔ نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے سیکریٹری سنتوش کمار سارنگی نے بدھ کو یہاں کانفرنس کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ  ۲۰۲۴ء میں منعقدہ انڈیا آر ای کانفرنس کے بعد، دو سالوں میں حکومت نے گرین انرجی کے شعبے میں چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس سے حوصلہ پا کر۶۴؍ ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری آئی۔ اس میں ۲ء۶؍ ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس سے بھی ایسی ہی امید ہے کہ یہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:نصیرالدین شاہ کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاجی طلبہ کی حمایت میں بیان

 سارنگی نے کہا کہ ۵۰۰؍ گیگا واٹ غیر فوسل توانائی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے  ۲۰۳۰ء تک ملک کے گرین انرجی سیکٹر میں  ۲۲۰؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس میں براہ راست گرین انرجی اور اس کے لیے ضروری ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی ترقی پر ہونے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ شمسی توانائی پر ۷۰؍ ارب ڈالر، ہوا کی توانائی پر ۳۰۔۳۵؍ ارب ڈالر، گرین ہائیڈروجن پر  ۲۰۔۲۵؍ ارب ڈالر، بائیو انرجی پر ۳؍ سے ۵؍ ارب ڈالر اور پن بجلی پر ۱۲۔۱۵؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، بیٹری اسٹوریج پر ۲۰؍ ارب ڈالر، مینوفیکچرنگ پر ۱۵؍ ارب ڈالر اور ٹرانسمیشن پر ۴۰۔۴۶؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں بھارت منڈپم میں ۲؍ سے ۵؍نومبر تک منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں گرین انرجی سے متعلق تمام امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس میں ۱۳۰؍ سے زائد ممالک کے  ۷۵؍ہزارسے زیادہ مندوبین شرکت کریں گے۔۱۴؍ ریاستوں اور۷۰؍ ممالک کے خصوصی سیشنز منعقد ہوں گے۔ بیرون ملک سے ۴۰؍ وزراء سمیت ۸۳۵؍ سفارت کاروں نے اب تک اپنی شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ کانفرنس اور نمائش ۳۲؍ ہزار مربع فٹ رقبے پر منعقد کی جا رہی ہے جس میں ۴۰۰؍ ایگزیبیٹرز اور ۵۰۰؍ مقررین ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ بلے بازی رینکنگ میں ابھیشیک شرما دوبارہ نمبر ایک بن گئے

وزیر اعظم نریندر مودی۲؍ نومبر کو انڈیا آر ای کا افتتاح کریں گے۔ اسی دن بند کمرے میں سی ای او راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد بھی ہوگا۔ اگلے دن ۳؍ نومبر سے عام لوگوں کے لیے مفت داخلے کی سہولت ہوگی۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن ۵؍ نومبر کو اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ سارنگی نے کہا کہ اس ایونٹ کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ہندوستان نے اب تک گرین انرجی کے میدان میں کتنا کچھ حاصل کیا ہے اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ دوسرے ممالک سے سیکھنے کا بھی ایک موقع ہوگا۔
ملک میں اس وقت کل نصب شدہ توانائی کی صلاحیت ۵۵۰؍ گیگا واٹ سے زیادہ ہے۔ جس میں ۳۰۸؍ گیگا واٹ غیر فوسل ایندھن پر مشتمل ہے۔ ہندوستان نے مقررہ وقت سے پہلے ہی ۵۰؍ فیصد گرین انرجی کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور ۵۰۰؍ گیگا واٹ گرین انرجی کا ہدف بھی مقررہ مدت سے قبل حاصل کر لیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا تھیم ’’انویسٹ، انوویٹ، انسپائر‘‘ (سرمایہ کاری، جدت، ترغیب) رکھا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK