نیند سے محروم جاپان نے بہترین جھپکی لینے کو مقابلے میں بدل دیا،ٹوکیو میں درجنوں شرکاء نے ’’میٹ ریس‘‘ نامی مقابلے میں حصہ لیا۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 10:34 AM IST | Tokyo
نیند سے محروم جاپان نے بہترین جھپکی لینے کو مقابلے میں بدل دیا،ٹوکیو میں درجنوں شرکاء نے ’’میٹ ریس‘‘ نامی مقابلے میں حصہ لیا۔
جاپان ایک ایسے ملک جو طویل کام کے اوقات اور دائمی نیند کی کمی کے لیے جانا جاتا ہے، نے نیند کو ایک مقابلے میں بدل کر بہتر آرام کو فروغ دینے کا ایک غیر معمولی طریقہ تلاش کیا ہے ۔ ٹوکیو میں درجنوں شرکاء نے ’’میٹ ریس‘‘ نامی مقابلے میں حصہ لیا، جہاں انہیں نیند کو ٹریک کرنے والے آلات پہنائے گئے اور آرام دہ گدوں پر جلدی اور گہری نیند سونے کا چیلنج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: فرانسس ہالزن کو آئس نیوٹرینو کی دریافت پر نوبیل انعام برائے طبیعیات۲۰۲۶ء دیا گیا
گدے بنانے والی کمپنی کوالا سلیپ جاپان کے زیر اہتمام اس مقابلے میں ۲؍ ملین ین،( ۱۴۰۰۰؍ ڈالر) سے زیادہ کا اول انعام پیش کیا گیا۔ جبکہ شرکاء کو سونے کے لیے۹۰؍ منٹ تک کا وقت دیا گیا تاہم مانیٹرز نے ان کی نیند کو ٹریک کیا۔ بعد ازاں کوالا سلیپ جاپان کے تخلیقی ڈائریکٹر ریچیرو ناکاما نے کہا، ’’جاپان کو اکثر نیند کی کمی کا شکار ملک کہا جاتا ہے، اور یہاں کے لوگ بہت محنتی ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ OECD کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جاپانی لوگوں نے۲۰۲۱ء میں ایک دن میں اوسطاً صرف سات گھنٹے اور۲۴؍ منٹ نیند لی ۔ جو ڈیٹاسیٹ میں OECD ممالک میں سب سے کم ہے۔تاہم اس مقابلے کی فاتح، جو سوئی میئی کا عرفی نام استعمال کرتی ہے، نے کہا کہ وہ انعامی رقم کو گھر بدلنے کے اخراجات اور ایک نئے بستر کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس: سائبیریا میں طاعون کا اثر، ایک کی موت، سیکڑوں افراد کو کوارنٹائن کیا گیا
ذہن نشین رہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اپنا مقام اور مرتبہ برقرار رکھنے کیلئے لوگ اضافی محنت کرتے ہیں، اس کے علاوہ کمپنیوں کی دوڑ بھی ملازمین سے اضافی وقت کام لینے کا ایک سبب ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آرام کا مناسب موقع نہیں مل پاتا۔ جس کا نتیجہ ذہنی دباؤ، بے خوابی اور دیگر طبی مسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ عوام کو مناسب نیند کے فوائد سے روشناس کرانے اور اس تعلق سے بیداری پیدا کرنے کیلئے جاپان کا یہ طریقہ کار قابل تقلید ہے۔