پہلی نظر میں ایک غیر استعمال شدہ سیونگ اکاؤنٹ بے ضرر محسوس ہوتا ہے۔ نہ اس میں اوور ڈرافٹ کا خطرہ ہوتا ہے، نہ کوئی قرض واجب الادا اور اکثر اوقات کم از کم بیلنس کی شرط بھی نہیں ہوتیں لیکن بینکوں کے لیے یہ اکاؤنٹس ایک پوشیدہ بوجھ بن جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 02, 2026, 4:13 PM IST | Mumbai
پہلی نظر میں ایک غیر استعمال شدہ سیونگ اکاؤنٹ بے ضرر محسوس ہوتا ہے۔ نہ اس میں اوور ڈرافٹ کا خطرہ ہوتا ہے، نہ کوئی قرض واجب الادا اور اکثر اوقات کم از کم بیلنس کی شرط بھی نہیں ہوتیں لیکن بینکوں کے لیے یہ اکاؤنٹس ایک پوشیدہ بوجھ بن جاتے ہیں۔
پہلی نظر میں ایک غیر استعمال شدہ سیونگ اکاؤنٹ بے ضرر محسوس ہوتا ہے۔ نہ اس میں اوور ڈرافٹ کا خطرہ ہوتا ہے، نہ کوئی قرض واجب الادا اور اکثر اوقات کم از کم بیلنس کی شرط بھی نہیں ہوتیں لیکن بینکوں کے لیے یہ اکاؤنٹس ایک پوشیدہ بوجھ بن جاتے ہیں۔ ہر غیر فعال اکاؤنٹ کی نگرانی، رپورٹنگ اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت تحفظ ضروری ہوتا ہے۔ جب ایسے اکاؤنٹس کی تعداد کروڑوں میں ہو، تو آپریشنل دباؤ واضح ہو جاتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں فراڈ کی تحقیقات میں سُست اکاؤنٹس کا بار بار استعمال سامنے آیا ہے۔ سائبر مجرم عموماً ایسے اکاؤنٹس کو نشانہ بناتے ہیں جن پر مالکان کی کڑی نظر نہیں ہوتی۔ ایک نجی بینک کے سینئر کمپلائنس افسر کے مطابق، مینوئل اکاؤنٹ نیٹ ورکس اکثر انہی خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ان کے الفاظ میں ’’وہ اکاؤنٹ جس میں دو سال سے کوئی سرگرمی نہ ہوئی ہو، اس کا غلط استعمال اُس اکاؤنٹ کے مقابلے میں کہیں آسان ہوتا ہے جس میں باقاعدہ لین دین ہو۔ ‘‘ اسی لیے اب ریگولیٹرز ایسے اکاؤنٹس کو نظرانداز کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
آر بی آئی کے مطابق غیر فعال اور سُست اکاؤنٹس کی تعریف
آر بی آئی کے قواعد کے تحت، اگر کسی اکاؤنٹ میں ۱۲؍ ماہ تک صارف کی جانب سے کوئی بھی لین دین نہ ہو تو اسے غیر فعال قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں نقد جمع کروانا، رقم نکلوانا، فنڈ ٹرانسفر یا ڈیجیٹل ادائیگیاں شامل ہیں۔ محض موبائل بینکنگ ایپ میں لاگ اِن ہونا کافی نہیں، جب تک اس کے نتیجے میں کوئی لین دین نہ ہو۔ غیر فعال قرار دیے جانے کے بعد، احتیاطی تدابیر کے طور پر بینک عموماً ڈیبٹ کارڈ اور آن لائن بینکنگ سہولیات معطل کر دیتے ہیں۔ اگر مزید ایک سال تک بھی کوئی سرگرمی نہ ہو، تو اکاؤنٹ کو سُست کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ۲۰۲۶ء کی تازہ ہدایات میں اس حیثیت کے نتائج مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ آر بی آئی نے واضح کیا ہے کہ خودکار اندراجات—جیسے سود کی رقم جمع ہونا یا سروس چارجز—اکاؤنٹ کو دوبارہ فعال نہیں بناتے۔ یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کیونکہ بہت سے صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ صرف سود آنے سے اکاؤنٹ فعال شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کچھ کیلئےآزادی، کچھ کیلئےخاموشی: اسرائیلی قید میں ہزاروں فلسطینی
آر بی آئی کے ۲۰۲۶ء اسکینر کے تحت تین اقسام
اس صفائی مہم میں تین بڑی اقسام پر توجہ دی جا رہی ہے: (۱)وہ غیر فعال اکاؤنٹس جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے بحال نہیں ہوئے۔ (۲) وہ سُست اکاؤنٹس جو دو سال تک انتباہات کے باوجود استعمال میں نہیں آئے۔ (۳)وہ زیرو بیلنس اکاؤنٹس جو کھول تو دیے گئے، مگر کبھی باقاعدہ طور پر استعمال نہیں ہوئے جو کہ بڑے پیمانے پر اکاؤنٹ کھولنے کی مہمات کا عام نتیجہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:طاہر حسین نے فلموں کو پیشہ نہیں بلکہ خدمت سمجھا
تمام زیرو بیلنس اکاؤنٹس یکساں خطرے میں نہیں ہیں۔ وہ اکاؤنٹس جن میں سرکاری فوائد جیسے سبسڈی یا پنشن باقاعدگی سے آ رہے ہوں، ان کے محفوظ رہنے کا امکان ہے بشرطیکہ لین دین جاری رہے۔ اصل تشویش اُن اکاؤنٹس پر ہے جن میں نہ رقم آتی ہے اور نہ صارف کی جانب سے کوئی سرگرمی ہوتی ہے۔ ایک سرکاری بینک کے اعلیٰ افسر کے مطابق’’ ایسا اکاؤنٹ جو نہ صارف کے کام آئے اور نہ ہی نظام کے، دراصل ایک مردہ بوجھ ہوتا ہے۔ ‘‘