• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوری میں مینوفیکچرنگ شعبے کی رفتار میں اضافہ

Updated: February 02, 2026, 5:16 PM IST | Mumbai

پیداوار میں مضبوط ترقی اور نئے آرڈرز کی وجہ سے جنوری میں ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی رفتار ایک بار پھر ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر بڑھی۔ ایچ ایس بی سی کی جانب سے جاری کردہ ہندوستانی مینوفیکچرنگ شعبے کا پرچیزنگ منیجر انڈیکس (پی ایم آئی)، جو دسمبر ۲۰۲۵ء میں ۲۲؍ ماہ کی کم ترین سطح ۰ء۵۵؍ پر تھا۔

Manufacturing.Photo:INN
مینوفیکچرنگ۔ تصویر:آئی این این

پیداوار میں مضبوط ترقی اور نئے آرڈرز کی وجہ سے جنوری میں ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی رفتار ایک بار پھر ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر بڑھی۔  ایچ ایس بی سی کی جانب سے جاری کردہ ہندوستانی مینوفیکچرنگ شعبے کا پرچیزنگ منیجر انڈیکس (پی ایم آئی)، جو دسمبر ۲۰۲۵ء میں ۲۲؍ ماہ کی کم ترین سطح ۰ء۵۵؍ پر تھا، جنوری میں بڑھ کر۴ء۵۵؍ درج کیا گیا۔ انڈیکس کا۵۰؍ سے اوپر رہنا شعبے کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ ۵۰؍ سے نیچے رہنا گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے جبکہ ۵۰؍ کی سطح استحکام کو ظاہر کرتی ہے۔
ہندوستان میں ایچ ایس بی سی کے چیف اکنامسٹ پرانجل بھنڈاری نے رپورٹ پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے جنوری میں سرگرمیوں میں ایک بار پھر بہتری دیکھی۔ اس کے پیچھے بنیادی عوامل نئے آرڈرز، پیداوار اور روزگار میں اضافہ رہا۔ لاگت میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ فروخت کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ اس سے پیدا کرنے والوں کے منافع کے تناسب پر کچھ اثر پڑا ہے۔ نئے آرڈرز میں پہلے کے مقابلے تیز اضافے کے باوجود کاروباری اعتماد کمزور ہے اور مستقبل کی پیداوار سے متعلق توقعات جولائی ۲۰۲۲ء کے بعد کی کم ترین سطح پر ہے۔ ایچ ایس بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی مینوفیکچرنگ شعبے میں صارفین کی مصنوعات کی کارکردگی سب سے بہتر رہی۔ جبکہ سرمایہ جاتی اشیا میں سب سے سست بہتری دیکھی گئی۔ سروے میں شامل منیجرس نے بتایا کہ مانگ، نئے کاروبار اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مضبوط مانگ اور مارکیٹنگ کی کوششوں کے سبب ملکی اور بین الاقوامی صارفین کی جانب سے مانگ میں تیز اضافہ دیکھا گیا۔
بجٹ جامع ترقی پر مرکوز ہے: کرسِل
پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے  مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے مختلف تنظیموں اور  اداروں نے اسے مستقبل  پر مبنی قراردیا ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ اور مارکیٹ ریسرچ ایجنسی کرسل نے بجٹ کو وژنری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی توجہ اب طویل مدتی اصلاحات پر مرکوز ہو گئی ہے، کاروبار کرنے میں آسانی بڑھ رہی ہے اور جامع ترقی اس کے مرکز میں آگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین چلہ سری نواسولو شیٹی نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے بجٹ کو پالیسی کے استحکام کو برقرار رکھنے کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ اسے مستقبل پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور سیمی کنڈکٹرز، ڈیٹا سینٹرز، کاربن کیپچر کے یوٹلائزیشن اور ذخیرہ کرنے نیز اہم معدنیات پر زور دیا گیا ہے۔ پچھلے بجٹ کی طرح اس بجٹ میں بھی بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:۳؍طرح کے اکاؤنٹس یکم فروری سے بند ہوجائیں گے

فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (فیو) کے صدر ایس سی  رلہان نے اتوار کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بجٹ میں پائیدار اقتصادی ترقی، مالیاتی نظم و ضبط، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور اعتماد پر مبنی حکمرانی کے لیے حکومت کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کرے گا اور برآمد کنندگان کو ایک مستحکم پالیسی ماحول فراہم کرے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایمباپے کا آخری لمحات میں جادو: ریئل میڈرڈ کی سنسنی خیز فتح

انہوں نے خاص طور پر الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز، بائیو فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، کیمیکل، ہوائی جہاز کے اجزاء، تعمیراتی سازوسامان اور ریئر ارتھ میگنٹ جیسے  ہائی ویلیو اور اسٹریٹجک شعبوں میں گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے کی حکومت کے توجہ مرکوز نقطہ نظر کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۰؍ روایتی صنعتی کلسٹرز کو بحال کرنے کی تجویز اور مختلف شعبوں سے متعلق اقدامات سے پیمانے، پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور برآمدی تیاری میں بہتری کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK