• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھن تیرس پر ماروتی کی ۳۰؍ ہزار کاریں فروخت

Updated: November 07, 2026, 1:52 PM IST | Agency | New Delhi

ٹاٹا موٹرس اور ہنڈائی مل کر۳۴؍ ہزار گاڑیاں بیچنے میں کامیاب رہیں۔

Car sales have increased on Dhanteras. Photo: INN
دھن تیرس پر کاروں کی فروخت بڑھ گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

 اس سال دھن تیرس کے موقع پر گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت اور ڈیلیوری دیکھی گئی۔ ملک بھر میں خریدار رات دیر تک شورومز پہنچتے رہے تاکہ اپنی پسندیدہ گاڑی گھر لے جاسکیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ملک کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی ماروتی سوزوکی نے دھن تیرس (جمعہ) کو تقریباً۳۰؍ہزار گاڑیاں صارفین کے حوالے کیں جبکہ ٹاٹا موٹرس پیسنجر وہیکلز نے۱۲؍ہزار گاڑیاں فروخت کیں۔ ہنڈائی  موٹر انڈیا کو دھن تیرس اور دیوالی کے دوران مجموعی طور پر۱۶؍ہزار گاڑیاں صارفین کے حوالے کرنے کی توقع ہے۔

ماروتی سوزوکی کے سینئرایگزیکٹیو افسر (مارکیٹنگ اینڈ سیلز) پارتھو بنرجی نے کہا کہ کمپنی کو اس سال دھن تیرس پر تقریباً۳۰؍ہزار گاڑیوں کی ڈیلیوری کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر: ایف ڈی اے نے بلنکٹ، زیپٹو اور دیگر کے لائسنس معطل کردیئے

انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کی خریداری میں تیزی صرف ایک دن تک محدود نہیں ہے۔۱۴؍ستمبر کو گنیش چترتھی سے۶؍نومبر تک کمپنی ۴؍لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت کر چکی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد۳ء۴۶؍لاکھ تھی۔

بنرجی کے مطابق کمپنی کی بریزا اور بالینو گاڑیوں کو صارفین کی جانب سے اچھا ردعمل مل رہا ہے۔ صرف ۲؍ماہ میں بالینو کی فروخت۵۰؍ہزار اور بریزا کی فروخت۷۰؍ہزار گاڑیوں سے تجاوز کرگئی ہے۔ دونوں ماڈلوں کی بکنگ بھی بڑی تعداد میں زیر التوا ہے۔ٹاٹا موٹرس پیسنجر وہیکلز کے چیف کمرشیل افسر امیت کامت نے کہا کہ گنیش چترتھی کے بعد سے کمپنی کی خردہ فروخت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے۲۰؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ دھن تیرس پر صارفین کا ردعمل غیر معمولی رہا اور ایک ہی دن میں۱۲؍ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی ڈیلیوری متوقع ہے۔ ہنڈائی موٹر انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او ترون گرگ نے کہا کہ اس سال بھی کمپنی کو خریداروں کی جانب سے زبردست ردعمل مل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK