• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت کی ترقی سست، سرمایہ کارمحتاط، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا نقصان کا خدشہ

Updated: November 07, 2026, 2:56 PM IST | Agency | New York

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت میں ترقی کی رفتار سست پڑنے کے خدشات نے امریکی شیئر بازار میں زبردست ہلچل پیدا کردی ہے، جسکے نتیجے میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ارب پتی کاروباری شخصیات کو ایک ہی دن میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت میں ترقی کی رفتار سست پڑنے کے خدشات نے امریکی شیئر بازار میں زبردست ہلچل پیدا کردی ہے، جسکے نتیجے میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ارب پتی کاروباری شخصیات کو ایک ہی دن میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ نئی سیاسی صورتحال میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً ڈیٹا سینٹروں کی تعمیر پر سخت پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔ اس خدشے نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص پر فروخت کا دباؤ بڑھا دیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیت ایلون مسک، این وِیڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ اور دیگر معروف ارب پتیوں کی دولت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 

۵؍نومبر کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل نیس ڈیک کمپوزٹ انڈیکس ۵ء۵ فیصد گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی ۵۰۰ ؍انڈیکس میں ۴ء۴ ؍فیصد اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں ۳ء۴ ؍فیصد کی کمی درج کی گئی۔ نیس ڈیک کی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً ۲ء۵ ؍ٹریلین ڈالر صاف ہوگئے۔ یہ اپریل ۲۰۲۵ء کے بعد امریکی بازار حصص کی بدترین گراوٹ میں سے ایک رہی۔

یہ بھی پڑھئے: یوسی سی: جمعہ کو مصلیان نے اپنے اعتراضات درج کرائے

سرمایہ کاروں کی تشویش کا بنیادی سبب یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی، کمپیوٹنگ صلاحیت اور ڈیٹا سینٹرس کی تعمیر پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اب اس سرمایہ کاری سے متوقع منافع اور اس کی پائیداری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔  دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیات میں شامل ایلون مسک کو اس گراوٹ سے سب سے بڑا ذاتی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ 

فوربس کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی دولت میں ایک دن کے دوران تقریباً ۷۴ ؍سے ۸۰ ؍ارب ڈالر تک کی کمی کا تخمینہ لگایا گیا۔ٹیسلا کے حصص میں تقریباً ۱۱؍فیصد جبکہ اسپیس ایکس سے متعلق حصص میں تقریباً ۸ ؍فیصد گراوٹ نے ان کی مجموعی دولت کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ۵ ؍نومبر کی رات تک ان کی دولت تقریباً ۷۸۹ء۵ ؍ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ مسک کی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں بھی ۳۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی کا تخمینہ سامنے آیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی دولت بھی اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ سے متاثر ہوئی۔ فوربس کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی دولت میں ۵ ؍نومبر کی صبح تقریباً ۲۱۹؍ ملین ڈالر کی کمی ہوئی۔ اس کی بڑی وجہ ان کی کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کے حصص میں تیز گراوٹ بتائی گئی ہے۔ٹرمپ کے پاس اس کمپنی کے تقریباً ۴۱؍ فیصد حصص ہیں۔ 
این وِیڈیا کے حصص کی قدر میں بھی کمی آئی،ہُوانگ کو بھاری نقصان
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اہم کمپنی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو جینسن ہوانگ کو بھی بھاری نقصان ہوا۔ فوربس کے مطابق ان کی دولت میں ایک ہی دن میں تقریباً ۱۵ء۸ ؍ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ این ویڈیا کے حصص میں تقریباً ۹؍ فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ قدر میں تقریباً ۴۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔ حصص کی قیمت میں اس کمی کے باعث ہوانگ دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست سے بھی نیچے آگئے۔ اے آیئی کیلئے جدید چپس کی بڑھتی مانگ نے گزشتہ برسوں میں این ویڈیا کو غیر معمولی بلندیوں تک پہنچایا تھا، لیکن اب ڈیٹا سینٹرس کی تعمیر میں ممکنہ سست روی کے خدشات نے کمپنی کے مستقبل کے کاروبار پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK