خامیاں دورکرکے دوبارہ سبمٹ کرنا ہوگا، ۵؍جون آخری تاریخ، پورٹل پر اندراج نہ ہونے کی صورت میں یہ جائیدادیں وقف سے باہر ہوسکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 12:23 PM IST | Muhammad Aamir Nadvi | Lucknow
خامیاں دورکرکے دوبارہ سبمٹ کرنا ہوگا، ۵؍جون آخری تاریخ، پورٹل پر اندراج نہ ہونے کی صورت میں یہ جائیدادیں وقف سے باہر ہوسکتی ہیں۔
’امید‘ پورٹل پر اوقاف کے اندراج کی آخری تاریخ میں ۲؍ ہفتہ سے بھی کم وقت بچا ہے۔ اندراج کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے، لیکن اندراج کے بعد یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کی جانب سے انہیں رِجیکٹ کئے جانے کی تعداد تشویشناک ہے۔ ۳۱؍ہزار سے زائد اوقاف کو رِجیکٹ کردیاگیا ہے، انہیں متولی وکمیٹی کے ذمہ دار وقت کے اندر درست کرکے دوبارہ سبمٹ کریں گے، جس کے بعد چیکنگ ہوگی اور پھر انہیں منظوری مل سکے گی۔
معلوم رہےکہ یہ سارا عمل ۵؍جون کے اندر کرنا ہے، وقت کے اندر اندراج یا رِجیکٹ اوقاف کی درستگی نہ ہونے پر قانونی پیچیدگیوں کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جو اوقاف ’پورٹل پر درج نہیں ہوں گی، ان کو وقف نہیں مانا جائے گا، ساتھ ہی مقدمہ اور سزا کی تجویز بھی ایکٹ میں ہے، اس لئے وقت کے اندر اوقاف کا اندراج اور رِجیکٹ اوقاف کی درستگی نہایت ضروری ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بجلی کی طلب ریکارڈ ۲۷۰؍ گیگاواٹ تک پہنچ گئی
اترپردیش میں یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ میں درج اوقاف کی تعداد ایک لاکھ ۲۶؍ہزار سے زائد ہے۔ وقف ترمیمی قانون ۲۰۲۵ءکے تحت سبھی اوقاف کا ’امید‘ پورٹل پر اندراج لازمی ہے، جس کا آغاز ۵؍جون ۲۵ء سے ہوا ہے۔ ۶؍ماہ کے بعد ٹربیونل سے مزید چھ ماہ کاوقت ملا، جو ۵؍جون ۲۰۲۶ءکو مکمل ہورہا ہے، لہٰذااب دو ہفتہ سے کم کا وقت باقی ہے۔ موجودہ پیش رفت کی بات کی جائے تو اب تک ایک لاکھ ۱۸؍ہزار ۷۴۴؍اوقاف کا اندراج پورٹل پر کیاگیا ہے، جن میں درست تفصیلات درج نہ ہونے کی وجہ سے وقف بورڈ نے ۳۱؍ہزار ۳۱۸؍اوقاف کو رِجیکٹ کردیا گیاہے، ساتھ ہی بورڈ اہلکاروں کی جانب سے رِجیکٹ کرنے کی وجہ واضح کرتے ہوئے اوقاف کے ذمہ داران کو فون پر اطلاع بھی دی جارہی ہے۔ اس کے باوجود رِجیکٹ درخواستوں کی تعداد میں کمی نہیں آرہی ہے۔ سنی سینٹرل وقف بورڈ کے افسران کے مطابق ۵؍جون تک اوقاف کا اندراج اور رِجیکٹ اوقاف کی درستگی ضروری ہے۔ بورڈ کو۳۰؍جون تک پورٹل پر درج کی گئی اوقاف کی چیکنگ اور منظوری کا وقت ہے۔ بورڈ کی جانب سے رِجیکٹ کی گئی اوقاف کی اطلاع دی جارہی ہے، اس لئے انہیں وقت کے اندر ان کی درستگی ضرور کردینا چاہئے، تاکہ بورڈسے انہیں منظوری مل سکے۔