نوٹس کو چیلنج کئے جانے پر مقامی عدالت نےمسجد کو موجودہ صورتحال پر برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے اور۳۰؍ جون تک میونسپل کارپوریشن سے درخواست گزار کی عرضی پر جواب طلب کیا ہے۔
مدرسہ و مسجد اہل سنت برکاتیہ-تصویر:آئی این این
ملک کے مختلف حصوں میں مساجد اور مدارس کو غیر قانونی قرار دے کر انہدامی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کے درمیان الہاس نگر میونسپل کارپوریشن نے بھی ۳۴؍ برس سے قائم مدرسہ و مسجد اہل سنت برکاتیہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسماری کا نوٹس جاری کیا تھا۔ تاہم اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیے جانے کے بعد مقامی عدالت نے اہم مداخلت کرتے ہوئے جائیداد پر’ اسٹیٹس کو ‘ برقرار رکھنے کا عبوری حکم صادر کر دیا۔عدالت کے اس فیصلے سے نہ صرف مسجد، مدرسہ اور امام صاحب کی رہائش گاہ کو فوری انہدام کے خطرے سے عارضی تحفظ حاصل ہوا ہے بلکہ اس نے میونسپل انتظامیہ کی کارروائی کے طریقۂ کار اور مذہبی اداروں کے خلاف اختیار کی جانے والی پالیسیوں پر بھی کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
مدرسہ و مسجد اہل سنت برکاتیہ ٹرسٹ کے تحت ۱۹۹۲ء سے کیمپ نمبر ۳؍ میں دینی و مذہبی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ٹرسٹ کے مطابق الہاس نگر میونسپل کارپوریشن نے ۱۰؍ جون کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے برکاتیہ مسجد، مدرسہ اور امام کی رہائش گاہ کے سلسلے میں ۷؍ دن کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ٹرسٹ کے ذمہ داران نے مقررہ مدت میں تحریری جواب پیش کیا، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ میونسپل انتظامیہ نے نہ صرف ان کا جواب قبول نہیں کیا بلکہ مزید ۷؍ دن کی مہلت دیتے ہوئےمسجد کو غیرقانونی قرار دے کر انہدام کا نوٹس جاری کر دیا۔میونسپل انتظامیہ کی اس کارروائی کے خلاف ٹرسٹ کے صدر رضوان خان نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت سول جج سینئر ڈویژن روہنی اشوک جادھو کی عدالت میں ہوئی جہاں عدالت نے ابتدائی دلائل اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فریقین کو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم صادر کیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ یہ کارروائی نہ صرف مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی متعلقہ دفعات سے متصادم ہے بلکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے طے کردہ قانونی اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عزیر نجے نے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ ۱۹۴۹ءکی دفعہ ۲۶۰؍ کے تحت کسی بھی انہدامی کارروائی سے قبل متاثرہ فریق کو کم از کم ۱۵؍ دن کی مہلت دینا ضروری ہےجبکہ میونسپل کارپوریشن نے صرف ۷؍ دن کا وقت دیا تھا۔ عدالت نے ابتدائی مشاہدے میں اس نکتے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ کارروائی بظاہر قانونی تقاضوں کے مطابق نظر نہیں آتی۔ عدالت نے اپنے تفصیلی مشاہدات میں واضح کیا کہ اگر مقدمہ زیر سماعت رہتے ہوئے متعلقہ عمارتوں کو منہدم کر دیا گیا تو مقدمے کا بنیادی مقصد ہی ختم ہو جائے گا اور بعد ازاں پیچیدہ قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے عبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔۔عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۳۰؍ جون تک درخواست گزار کی جانب سے دائر عارضی حکم امتناعی کی درخواست پر اپنا جواب داخل کرے۔