برازیل نے امریکی ٹیرفکے خلاف جوابی ٹیرف کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ صدر لولا ڈاسلوا، ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی راہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ تجارت اور۲۰۲۶ء کے برازیلی صدارتی انتخابات کے حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 7:04 PM IST | Brasilia
برازیل نے امریکی ٹیرفکے خلاف جوابی ٹیرف کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ صدر لولا ڈاسلوا، ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی راہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ تجارت اور۲۰۲۶ء کے برازیلی صدارتی انتخابات کے حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
برازیل نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے برازیلی اشیاء پر عائد ٹیرفکے جواب میں اپنے ’’اقتصادی جوابی مساوات کے قانون‘‘ کے تحت باضابطہ طور پر ایک عمل شروع کیا ہے۔ صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے کہا کہ’’ برازیل نے یہ قانون اس لیے نافذ کیا ہے تاکہ ظاہر ہو سکے کہ ملک اپنی عزت کرتا ہےاور اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔ ‘‘ بعد ازاں برازیل کی وزارت خارجہ نے واشنگٹن کو باضابطہ اطلاع دے دی ہے اور سفارتی مشاورت کی درخواست کی ہے۔تاکہ اس عمل سے دونوں فریقوں کو ایسے اقدامات پر مذاکرات کے لیے وقت مل جائے جو امریکی ٹیرفکے اثرات کو کم یا ختم کر سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی میڈیا: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز امریکی علاقہ قرار دینا مذاق تھا، ایران کا طنز
واضح رہے کہ جوابی ٹیرف کا عمل خود بخود ہم پیمانہ محصولات عائد نہیں کرتا۔ برازیلی حکام پہلے ملکی صنعتوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں گے اور حکومتی خارجہ تجارتی بورڈ (CAMEX) کے ذریعے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لیں گے۔ عوامی مشاورت بھی اس عمل کا حصہ ہے۔ جب غیر ملکی کارروائیاں برازیلی مسابقت کو نقصان پہنچائیں تو ایسی صورت میں برازیل کا جوابی مساوات کا قانون متناسب اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ ممکنہ ردعمل میں امریکی اشیاء پر محصولات، خدمات یا درآمدات پر پابندیاں، تجارتی مراعات کی معطلی، اور دانشورانہ املاک کو متاثر کرنے والے اقدامات شامل ہیں۔
برازیل اس سے قبل امریکی آڈیو ویژول کمپنیوں اور دواسازی کے پیٹنٹس سے متعلق اختیارات کا جائزہ لے چکا ہے۔ تاہم حکام اس امر کے تعلق سے بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے بارے میں محتاط ہیں۔واضح رہے کہ جوابی اقدامات برازیل کی سپلائی چین میں خلل ڈال سکتے ہیں، اخراجات بڑھا سکتے ہیں، اور ملکی افراط زر میں اضافہ کر سکتے ہیں۔لہٰذا حکومت اس طریقہ کار کو ایک ممکنہ دفاعی آلے اور مذاکراتی دباؤ دونوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ایران کو معاشی طور پر دنیا سے الگ تھلگ کردینے کی دھمکی
مزید برآں برازیل امریکی اقدامات کو عالمی تجارتی ادارے (WTO) میں چیلنج کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے اور اس نے محصولات سے متاثرہ شعبوں کو کریڈٹ لائنز سمیت مدد فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔لولا نے واشنگٹن کو برازیل کے داخلی معاملات اور اکتوبر۲۰۲۶ء کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے، ساتھ ہیکہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔دریں اثناء لولا سینیٹر فلاویو بولسونارو کے خلاف دوبارہ انتخاب کی مہم چلا رہے ہیں، جو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے اور ٹرمپ کے ایک معروف حلیف ہیں۔