برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) نے اپنے ۴؍ اسکولوں کی عمارتوں کو خستہ حال اور خطرناک قرار دے کر گزشتہ ۳؍سال میں ان اسکولوں کے ساڑھے ۳؍ہزار سے زیادہ طلبہ کو دیگر اسکولوں میں منتقل کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 04, 2026, 12:57 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) نے اپنے ۴؍ اسکولوں کی عمارتوں کو خستہ حال اور خطرناک قرار دے کر گزشتہ ۳؍سال میں ان اسکولوں کے ساڑھے ۳؍ہزار سے زیادہ طلبہ کو دیگر اسکولوں میں منتقل کیا ہے۔
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) نے اپنے ۴؍ اسکولوں کی عمارتوں کو خستہ حال اور خطرناک قرار دے کر گزشتہ ۳؍سال میں ان اسکولوں کے ساڑھے ۳؍ہزار سے زیادہ طلبہ کو دیگر اسکولوں میں منتقل کیا ہے۔ ان میں ماہم، قلابہ اور گھاٹ کوپر کے اسکولوں کے علاوہ اب ورلی کے ایک اسکول کے ۶۰۰؍ طلبہ بھی شامل ہوجائیں گے۔ شہری انتظامیہ کے اس فیصلہ سے طلبہ کے والدین اورسرپرستوں میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ جن اسکولوں میں ان کے بچوں کو منتقل کیا جا رہا ہے، وہ ان کی رہائش گاہ سے دور ہیں اور وہاں بنیادی سہولیات بھی نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال بی ایم سی نے ماہم کے نیو ماہم اسکول کی عمارت کو خطرناک قرار دیا تھا اور وہاں کے طلبہ کو دھاراوی اور دیگر مقامات کے اسکولوں میں منتقل کیا تھا۔ اس اسکول میں زیر تعلیم تقریباً ۱۵۰۰؍طلبہ کو دیگر اسکولوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ چونکہ یہ اسکول طلبہ کی رہائش گاہ سے بہت دور ہے، اس لئے انہیں اسکول جانے کیلئے آدھے گھنٹے سے زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے۔
نیو ماہم اسکول سے قبل قلابہ اورگھاٹ کوپر کے اسکولوں کے طلبہ کو بھی ان اسکولوں کی عمارتوں کے خطرناک ہونے کی بنیاد پر دیگر اسکولوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ اب ورلی بیچ کے سامنے واقع اسکول کو خطرناک قرار دے کر وہاں کے ۶۰۰؍ طلبہ کو دوسرے اسکول میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ شہری انتظامیہ کے اس فیصلے سے طلبہ کے والدین ناراض ہیں۔ ان طلبہ کو سسمیرا بی ایم سی اسکول (ورلی ناکہ ) میں منتقل کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔ یہ اسکول طلبہ کی رہائش گاہ سے کافی دور ہونے کی وجہ سے انہیں اوران کے والدین کیلئے پریشانی کا سبب بنا ہواہے۔
یہ بھی پڑھئے: شمشان بھومی سے بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمہ کی منتقلی کا مطالبہ
خیال رہے کہ بی ایم سی نے قلابہ کے اسکول کو خطرناک قرار دے کروہاں کے ایک ہزار ۱۰۰؍ طلبہ کو قریب کے دیگر بی ایم سی اسکولوں میں منتقل کیا تھا۔ اس کے بعد گھاٹ کوپر میں تلک روڈ اسکول کے تقریباً ۴۰۰؍طلبہ کو بھی اسی بنیاد پر دوسرے اسکولوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
بی ایم سی کے محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر کے مطابق ’’یہ فیصلہ متعلقہ اسکول کی عمارت کا اسٹرکچرل معائنہ کرنے کے بعد طلبہ کی حفاظت کیلئے کیا گیا ہے۔ طلبہ کے تحفظ کو بغیر کسی سمجھوتے کے اولین ترجیح دی گئی ہے۔ ان طلبہ کو قریبی اسکولوں میں منتقل کرنے سے انہیں کوئی جسمانی یا تعلیمی نقصان نہیں پہنچے گا۔ ‘‘