Inquilab Logo Happiest Places to Work

جون کی بارش میں ۴۲؍ فیصد کمی، دھان اور دیگر فصلوں کی بوائی متاثر

Updated: July 01, 2026, 11:48 AM IST | New Delhi

کپاس، سویابین اور مکئی کی فصلیں بھی سست رفتاری کا شکار، ۱۰۰؍ برسوں میں ۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۴ء کے بعد یہ ملک کا تیسرا سب سے کم بارش والا جون ثابت ہوا۔

The shortage in paddy sowing could become a global problem, not just for India, as India is the largest rice exporter. India exports 40 percent of the world`s rice. Photo: INN
دھان کی بوائی میں کمی ہندوستان ہی نہیں عالمی مسئلہ بھی بن سکتاہے کیوں کہ ہندوستان چاول برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ عالمی سطح پر ۴۰؍ فیصد چاول ہندوستان ایکسپورٹ کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مانسون کی کمزور شروعات اور جون میں  معمول سے کم بارش کی وجہ سےکسانوں نے دھان، کپاس، سویابین اور مکئی سمیت خریف کی فصلوں کی بوائی کی رفتار سست کر دی ہے۔ اس کی وجہ سے چاول کی پیدوار میں کمی کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہندوستان  دنیا میں چاول برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک  ہے جس کا چاول کی عالمی برآمدات میں  ۴۰؍ فیصد حصہ ہوتا ہے۔ یہاں کسان ہر سال جون اور جولائی میں مانسون کی آمد کے ساتھ خریف کی فصلوں کی بوائی شروع کردیتے ہیں لیکن اس سال مانسون جنوبی ریاست کیرالا میں تین دن کی تاخیر سے پہنچا اور مغربی زرعی علاقوں میں اس کی پیش رفت تقریباً ۲؍ ہفتوں تک تعطل کا شکار رہی۔ 

۱۰۰؍ برسوں میں تیسرا خشک ترین جون 

مانسون کی انتہائی کمزور شروعات کی بنا پر جون ۲۶ء گزشتہ تقریباً ایک صدی کے دوران تیسرا خشک ترین جون بننے جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق مہینے کے اختتام سے قبل ملک بھر میں جون کی بارش کا خسارہ۴۲؍فیصد تک پہنچ گیا جس سے زرعی شعبے، آبی ذخائر اور آنے والے خریف سیزن کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں تیزی سے مضبوط ہوتا ایل نینو اس صورتحال کی بڑی وجہ بن رہا ہےجو عموماً ہندوستانی مانسون کو کمزور کر دیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: `ہم اب فرسٹ کلاس ٹیم نہیں رہے: جرمن کوچ ناگلزمین کا اعتراف

جون۲۶ء میں ۹۲ء۲؍ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی

اعداد و شمار کے مطابق یکم جون سے ۲۹؍ جون تک  ملک میں صرف۹۲ء۲؍ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی  جبکہ اس عرصے میں معمول کے مطابق۱۵۷ء۷؍ ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔ اگر مہینے کے آخری دن اچھی بارش بھی ہو جائے تو  بھی مجموعی بارش تقریباً۱۰۰؍ ملی میٹر تک ہی  پہنچ پائے گی  جو معمول سے کہیں کم ہوگی۔ گزشتہ سو برسوں میں صرف۲۰۰۹ء اور ۲۰۱۴ء ایسے سال رہے ہیں جب جون میں اس سے بھی کم بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ 

وسطی ہندوستان سب سے زیادہ متاثر

سب سے زیادہ متاثر وسطی ہندوستان رہا، جہاں جون میں بارش کا خسارہ۵۴؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں۴۱؍ فیصد، شمال مغربی ہندوستان میں۳۰؍ فیصد اور جنوبی علاقوں میں۲۸؍فیصد کم بارش ہوئی۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق ایک ہی وقت میں ملک کے چاروں بڑے خطوں میں  بارش کی اس قدرکمی غیر معمولی صورتحال ہے جو اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ ایل نینو کے اثرات معمول سے پہلے ہی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

دھان، کپاس، سویابین اور مکئی کا زیر کاشت رقبہ کم ہوا

ماہرین کے مطابق  بارش کی اس کمی کی وجہ سے دھان، کپاس، سویابین اور مکئی جیسی اہم فصلوں کا زیر کاشت رقبہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو گیا ہے۔وزارتِ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق۲۵؍ جون تک خریف فصلوں کی بوائی ایک کروڑ۸۲؍ لاکھ۷۰؍ہزار ہیکٹر رقبے پر ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً۲۳؍ فیصد کم ہے۔ دھان کی بوائی۲۵؍ لاکھ۸۰؍ہزار ہیکٹر پر ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقبہ۳۴؍ لاکھ۴۰؍ ہزار ہیکٹر تھا۔ سویابین کی بوائی ۶؍ لاکھ ۹۲؍ ہزار  ہیکٹر پر ہوئی جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں۶۵؍فیصد کم ہے۔ مکئی کی بوائی۱۵؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار ہیکٹر پر ہوئی جس میں ۱۶؍فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ کپاس کی بوائی۲۹؍ لاکھ۷۰؍ہزار ہیکٹر پر ہوئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں۳۵؍فیصد کم ہے۔ اس  کے برعکس گنے کا زیرکاشت رقبہ۱ء۲؍فیصد بڑھ کر۵۷؍ لاکھ ہیکٹر ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: `مراکش نے دنیا بھر سے اپنا لوہا منوا لیا ہے

جولائی میں مانسون کے سرگرم ہونے کی امید

 اگرچہ جون کی صورتحال تشویشناک رہی، تاہم محکمہ موسمیات کو امید ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے سے مانسون دوبارہ سرگرم ہوگا اور ملک کے بیشتر حصوں، خصوصاً وسطی ہندوستان میں اچھی بارش ہونے کا امکان ہے، جس سے بارش کے خسارے میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایل نینو مزید شدت اختیار کرتا ہے تو پورے مانسون سیزن کے دوران بارش معمول سے کم رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا، جس کے اثرات زرعی پیداوار، پانی کی دستیابی اور غذائی مہنگائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ چونکہ بوائی میں تاخیر سے غذائی اجناس کی پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ،اس لئے اس کا براہ راست اثر ان کی قیمتوں   پر بھی پڑسکتاہے۔

  تاہم حکومت کے گوداموں میں چاول کے وافر ذخائر اس صورتحال کے اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ جون کے آغاز تک سرکاری گوداموں میں چاول کے ذخائر گزشتہ سال کے مقابلے میں۱۵؍فیصد بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK