Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی میں آلودگی، کوڑا کرکٹ کی صفائی اور پانی سپلائی سے متعلق شکایات میں اضافہ

Updated: July 01, 2026, 12:49 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

غیر سرکاری تنظیم ’پرجا فاؤنڈیشن‘ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ۹۶؍ سے ۵۳۱؍ فیصد تک شکایتیں بڑھی ہیں۔

File photo. Photo: INN
فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

سرکاری محکموں کی کارکردگی پر نگاہ رکھنے والی غیرسرکاری تنظیم ’پرجا فاؤنڈیشن‘ نے منگل کومنعقدہ پریس کانفرنس میں اعداد و شمار کے ذریعہ بتایا ہے کہ بی ایم سی کی حدود میں آلودگی، کوڑاکرکٹ کی صفائی اور پانی سپلائی کے تعلق سے شہریوں کے ذریعہ کی جانے والی شکایتوں کی کئی فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

اس تنظیم نے بی ایم سی کی ویب سائٹ پر دستیاب اور حق معلومات قانون (آر ٹی آئی )کی مدد سے حاصل شدہ تفصیلات کی بنیاد پر بتایا ہے کہ ۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۵ ءکے درمیان بی ایم سی کو شہریوں کے ذریعہ موصول ہونے والی شکایتوں کی مجموعی تعداد میں ۵۹ ؍فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر زمروں کے حساب سے مختلف شعبوں کی تفصیلات دیکھی جائیں تو سب سے زیادہ شکایتیں آلودگی سے متعلق کی گئی ہیں۔ ان شکایتوں میں ۵۳۱ ؍فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق شکایتیں ملی ہیں جن کی تعداد میں ۲۸۱ ؍ فیصداضافی درج کیا گیا ہے۔ پانی سپلائی   سے متعلق شکایت میں ۹۶ ؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اگرچہ تنظیم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ماضی کے مقابلے شہری انتظامیہ کے ذریعہ عوام کی موصول ہونے والی شکایتوں کے ازالے کی مدت کافی کم ہوگئی ہے۔ مثلاً کچرا صفائی سے متعلق شکایتوں کے ازالے میں پہلے ۴۰ ؍دن لگتے تھے جو گھٹ کر ۸؍ دن ہوگئی ہے۔ تاہم شہر و مضافات میں واقع تالابوں، ندیوں اور ساحلوں پر پانی کا معیار خراب زمرے میں ہی ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: سچن اہیر نے بھی اُدھو کا ساتھ چھوڑا، کونسل میں ڈپٹی چیئر مین بنیں گے

ممبئی میں ماحولیات کو بہتر بنانے کیلئے مارچ ۲۰۲۲ میں ’ممبئی کلائمیٹ ایکشن پلان  (ایم سی اے پی)‘ شروع کیا گیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد کیلئے کوئی قانون نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ مہم انتظامیہ اور سیاستدانوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس مہم کے تحت ۲۰۵۰ ءتک ماحولیات میں سدھار لانا تھا لیکن اس پر عملدرآمد کے تعلق سے کوئی سالانہ رپورٹ بھی شائع نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے نہ تو اس مہم کی نگرانی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی پتہ چل سکتا ہے کہ کتنا کام مکمل ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK