رئیس شیخ کےسوال پر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اسمبلی میں بتایا کہ اسکیم کیلئے تجویز ’ایم ای آر سی‘ کو پیش کی جا ئے گی۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 12:45 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
رئیس شیخ کےسوال پر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اسمبلی میں بتایا کہ اسکیم کیلئے تجویز ’ایم ای آر سی‘ کو پیش کی جا ئے گی۔
بھیونڈی کے بجلی صارفین کو بقایا بل ادا کرنے میں راحت دینے کیلئے اسکیم ’ ون ٹائم سیٹلمنٹ ( او ٹی ایس)‘ اور بجلی معافی پروگرام۱۱۰؍ فیصد ادائیگی اسکیم نافذ کرنے کیلئے محکمہ توانائی کی جانب سے مہاراشٹر الیکٹریسی اینڈ ریگولیٹری کمیشن(ایم ای آر سی) کو تجویز پیش کی جائے گی۔منگل کو قانون ساز اسمبلی میں وقفہ ٔ سوالات کے دوران رکن اسمبلی رئیس شیخ کے سوالوں کاجواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس جو وزیر توانائی بھی ہیں ،نےیہ یقین دہانی کرائی۔
اس سلسلے میں رئیس شیخ نے وقفہ ٔسوالات کے دوران ایوان اسمبلی کوبتایا کہ’’ ۲۶؍ جنوری ۲۰۰۷ء کو ٹورینٹ پاور کو بھیونڈی میں بجلی سپلائی کرنے کی فرنچائزی کے طورپرلایا گیا اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ بھیونڈی میں ڈسٹری بیوشن (تقسیم) میں خسارہ ۴۰؍ تا ۶۰؍ فیصد ہے۔ سب سے پہلے بھیونڈی میں نجکاری کی گئی ۔ ریاست میں جہاں جہاں بھی نجکاری کی گئی ہے،وہاں بجلی کی شرح اس طرح ہے:ٹاٹا پاور کی شرح برائے ۱۰۰؍ تا ۳۰۰؍ یونٹ : ۷؍ روپے ۱۰؍ پیسے، بیسٹ کے ۷؍ روپے ۱۷؍ پیسے اور اڈانی بجلی کمپنی کے ۸؍ روپے ۱۳؍ پیسے ہے۔ٹورینٹ پاور یعنی ایم ایس ای ڈی سی ایل ۱۱؍ روپے ۱۰؍ پیسے، اس لئے میرا مطالبہ ہے کہ فرنچائزی کا فائدہ صارف کو کیوں نہیں دیا جارہا ہے۔ آج بھیونڈی میں انرجی لاس ۹؍ فیصد ہو گئی ہے۔اس میں بھی بجلی چوری ۳؍ تا ۴؍ فیصد شامل ہے۔آج جب سب سے زیادہ اور ایمانداری سے بجلی بل ادا کرنے والا شہر بھیونڈی ہے۔ جب انرجی لاس کم ہوا ہے تو ہمیں سہولت بھی ملنی چاہئے۔اس شہر نے ۲۰؍ سال حکومت کے ذریعے لائی گئی فرنچائزی کو برداشت کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سچن اہیر نے بھی اُدھو کا ساتھ چھوڑا، کونسل میں ڈپٹی چیئر مین بنیں گے
رئیس شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھیونڈی میں ایک سے زیادہ فرنچائزی کمپنی لائی جائے۔ اس سے عوام کو سہولت ہوگی۔ یہاں کا حال یہ ہو گیا ہےکہ جو پہلے پاور لوم چلاتے تھے اب انہیں بند کر کے نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر توانائی دیویندر فرنویس سے مطالبہ کیا کہ بھیونڈی کے صارفین باقی بل ادا کرنے کیلئے تیار ہے اس لئے میرا مطالبہ ہے کہ حکومت وَن ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم لائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ صارفین ایک جال میں پھنس گئے ہیں اور سہولتوں سے محروم ہو رہے ہیں ۔
اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا کہ’’بجلی کی شرح الگ الگ نہیں ہے۔ رئیس شیخ نے بھیونڈی کی شرح کا موازنہ ممبئی کی شرح سے کیا ہے جبکہ بھیونڈی کے بازو میں کلیان ڈومبیولی،تھانے ہیں،ان سبھی جگہ پر یکسا ں شرح ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں بھیونڈی میںفرنچائیزی کا ماڈل سب سے زیادہ کامیاب ہوا ہے ۔ ۴۲؍ فیصد خسارہ تھا جو تقریباً ۱۰؍ فیصد پر آگیا ہےاور ریکوری ۶۵؍ تا ۶۷؍ فیصد تھی جو بڑھ کر ۹۸؍ فیصد ہو گئی ہے۔