ایس ایم ایز کو سرمایہ کی فراہمی کیلئے یہ رقم اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا کو دی جائےگی، روزگار کے۱ء۱۲؍ کروڑ نئے مواقع کی توقع۔
حکومت نے چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کیلئے فنڈ مختص کیا ہے جس معیشت کو بھی فائدہ ہو گا۔ تصویر: آئی این این
چھوٹے اور متوسط کاروبار کو فروغ دینے اورانہیں مالی مدد فراہم کرنے کیلئے مرکزی کابینہ نے بدھ کو مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزس (ایم ایس ایم ایز) کیلئے دستیاب قرض میں توسیع کے مقصد سے اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (ایس آئی ڈی بی آئی ، سڈبی) میں۵؍ ہزار کروڑ روپےکے نقد سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔سڈبی میں سرمایہ کاری کا یہ فیصلہ صرف ایک بینک کو مضبوط کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے روزگار، پیداوار، برآمدات اور مالیاتی استحکام کے ذریعے مجموعی طور پر ہندوستانی معیشت کو طویل مدتی فائدہ ہونے کی امیدہے۔
ایم ایس ایم ایز ہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ سڈبی میں۵؍ ہزارکروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو زیادہ آسانی سے قرض مل سکے گا، جس سے ان کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی اور کاروبار کو وسعت ملے گی۔حکومت کو امید ہے کہ اس فیصلے سے تقریباً۱ء۱۲؍ کروڑ نئے روزگار پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایم ایس ایم ایز میں چونکہ ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے قرض کی دستیابی بڑھنے سے فوری طور پر نوکریوں کے مواقع بھی بڑھیں گے جس سے بے روزگاری کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔جب چھوٹے کاروباروں کو سرمایہ ملتا ہے تو پیداوار، فروخت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا براہ راست اثر جی ڈی پی اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر پڑتاہے۔ مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں۳؍ ہزار کروڑ روپے، ۳۱؍ مارچ۲۰۲۵ء تک بک ویلیو پر فی شیئر۵۶۸ء۶۵؍ روپے فراہم کئے جائیں گے، جبکہ ۲۷-۲۰۲۶ء اور مالی سال ۲۸-۲۰۲۷ء میں ایک ایک ہزار کروڑ روپے متعلقہ سابقہ مالی سال کیلئے ۳۱؍ مارچ تک کی بک ویلیو پر فراہم کیے جائیں گے۔
۵؍ہزار کروڑ روپے کے ایکویٹی سرمایہ کی فراہمی کے بعد مالی امداد حاصل کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی تعداد مالی سال۲۰۲۵ءکے اختتام پر۷۶ء۲۶؍ لاکھ سے بڑھ کر ۲۰۲۸ء کے اختتام تک۱۰۲؍ لاکھ ہونے کی توقع ہے (یعنی تقریباً۲۵ء۷۴؍ لاکھ نئے ایم ایس ایم ای کا اضافہ ہوگا)۔ وزارت برائے ایم ایس ایم ای کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب تازہ ترین ڈیٹا (بمطابق۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۵ء ) کے مطابق۶ء۹۰؍کروڑ ایم ایس ایم ای کے ذریعے۳۰ء۱۶؍ کروڑ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں (یعنی فی ایم ایس ایم ای اوسطاً۴ء۳۷؍ افراد کو روزگار ملا ہے)۔ اس اوسط کو مدنظر رکھتے ہوئے، مالی سال۲۸-۲۰۲۷ء کے اختتام تک۲۵ء۷۴؍ لاکھ نئے ایم ایس ایم ای کے متوقع اضافے سے۱ء۲۱؍ کروڑ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ گائیڈیڈ کریڈٹ پر توجہ مرکوز کرنے اور اگلے ۵؍ برسوں میں اس شعبے میں متوقع ترقی سے، ایس آئی ڈی بی آئی کی بیلنس شیٹ پر رسک ویٹڈ اثاثوں میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ اس اضافے سے ایکویٹی ریشو (سی آر اے آر) کے کریڈٹ کی اسی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سرمائے کی ضرورت ہوگی۔ایس آئی ڈی بی آئی صحت مند سی آر اے آر کو برقرار رکھتے ہوئے اضافی شیئر کیپٹل کے اضافے سے فائدہ اٹھائے گا۔ اضافی سرمایہ سے ایس آئی ڈی بی آئی مناسب شرح سود پر وسائل پیدا کرنے پر قادر ہو گا، جس سے مسابقتی لاگت پر خورد، چھوٹی اور درمانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو قرض کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔