Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیسٹ کے ۵؍ہزارسبکدوش ملازمین کی گریجویٹی نہ ملنا سنگین مسئلہ

Updated: June 10, 2026, 1:10 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

فائنل بل بھی نہیں دیا گیا، اس مد کی مجموعی رقم ۱۵۰۰؍ کروڑ سے زائد ہے جبکہ ایک ایک ملازم کے ۲۰؍تا ۲۵؍لاکھ روپے باقی۔

Retired Best Employees Have Gathered In Dadar To Demand Their Rights. Photo: INN
اپنا حق مانگنے کیلئےدادر میں بیسٹ کے سبکدوش ملازمین جمع ہوئے ہیں۔ تصویر:انقلاب
بیسٹ کے سبکدوش ۵؍ہزار سے زائد ملازمین کی گریجویٹی اور فائنل حساب جس میں چھٹی وغیرہ کا پیسہ شامل ہے، نہ ملنے سے ملازمین سخت پریشان ہیں۔ ملازمین کی یہ مجموعی رقم ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ ایک ایک ملازم کے ۲۰؍ تا ۲۵؍لاکھ روپے باقی ہیں۔ ۲۰۲۴ء سے اب تک ایک بھی سبکدوش ملازم کو اس مد میںایک روپیہ نہیں ملا ہے۔
مختلف سطح پر کوشش کے باوجود ان ملازمین کی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ دوسرے پریشانی کی ایک بڑی وجہ بیسٹ میں برائے نام چار پانچ ہزار روپے پینشن ہے۔ ایسے میں ان کیلئے گزر اوقات سنگین مسئلہ ہے۔
پریشانی ملازمین کی زبانی 
بیسٹ کے ریٹائرڈ ملازمین کے اس مسئلے کے حل کی کوشش کے لئے قائم کردہ ’کرمچاری نیورتی سنگھ منچ ‘ کے سربراہ ہیمنت پاٹنکرنے نمائندۂ انقلاب سےبات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ ’’۵؍ ہزار سے زائد سبکدوش ملازمین ایسے ہیں جنہیں گریجویٹی اور فائنل بل کی رقم ادا کی جانی باقی ہے۔ اصولاً ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ماہ کے اندریہ رقم ادا کردی جانی چاہئےتھی بصورت دیگر ضابطے کے تحت ۱۰؍ فیصد ماہانہ سود دینا چاہئے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ان تمام ملازمین کی مجموعی رقم ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے ہے۔اس میں ایک ایک ملازم کا تقریباً ۲۰؍سے ۲۵؍کھ روپے بقایا ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ اس کے لئے ہم لوگوں نے وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ کو اور بیسٹ کے جی ایم کو خط لکھا اور نائب وزیراعلیٰ سنیتراپوار سے ملاقات کی ۔ اس سے پہلے موسم سرما کے اجلاس میں نائب وزیراعلیٰ اور بحیثیت شہری ترقیاتی وزیر ایکناتھ شندے کی جانب سے یہ یقین دلایا گیا تھا کہ مسئلہ حل ہوگا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ کچھ ملازمین تومجبوراً لیبرکورٹ گئے تھے ان میں سے کچھ کو کچھ فیصد رقم ملی بقیہ دوڑ رہے ہیں۔ اسی طرح بیسٹ کمیٹی کی چیئرپرسن کرشنا وشواس راؤ سے بھی ملاقات کی گئی لیکن ابتک کچھ نہیں ہوا ۔‘‘ 
 
 
انہوں نےمزیدکہاکہ’’ خو د حکومت کویہ سوچنا چاہئے کہ بیسٹ کے ریٹائرڈملازمین اپنے حق کی رقم مانگ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ موجودہ زبردست مہنگائی کے دور میں کیا ۴؍ پانچ ہزارروپے میںگھر چلایا جاسکتا ہے؟۔ہم سب اپنا حق اوراپنی محنت کی کمائی کے لئے سوال کررہے ہیں ۔‘‘  
 
 
نائب وزیراعلیٰ کوشکایتی مکتوب
کمیٹی کی جانب سے ۵؍جون کو ایک خط نائب وزیراعلیٰ شندے کوپھر دیا گیا ہے۔ اس میںلکھا گیاکہ سرمائی اجلاس کے دوران بیسٹ کا مالی بحران اور ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات کے بارے میں معزز اراکین کی طرف سے اٹھائے گئے سوال پرآپ کی جانب سے جو مؤقف اختیار کیاگیا تھاوہ قابل ستائش تھا ۔ اس میں یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ’ایک پیکج ‘منظور کیا جائے گا تاکہ بیسٹ کے مالیاتی بحران اور سبکدوش ملاز مین کے بقایات جات ادا کئے جاسکیں مگرافسوس کے ساتھ یہ بتانا ہے کہ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی حقیقت انتہائی مایوس کن ہے۔اس لئے اس جانب توجہ دی جائے تاکہ ہزاروں ملازمین کا مسئلہ حل ہوسکے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK